Download (13)

جموں وکشمیرنے اپنی مہمان نوازی اور بھائی چارہ کیلئے پوری دنیا میں اپنا نام کمایاہے/ ڈاکٹر فاروق

صدیوں کے بھائی چارہ کو زندہ رکھنا اور ہر ایک مذہب کا احترام کرنا کشمیری عوام کی ریت

سرینگر // صدیوں کے بھائی چارہ کو زندہ رکھنا اور ہر ایک مذہب کا احترام کرنا کشمیری عوام کی ریت رہی ہے اور جموں وکشمیرنے اپنی مہمان نوازی اور بھائی چارہ کیلئے پوری دنیا میں اپنا نام کمایاہے۔ اپنی اس سنہری ریت کو قائم و دائم رکھنے کیلئے ریاست کے ہر ایک باشندے کو اپنا رول نبھانا ہوگا اور ایسے عناصر کے مذموم اور مکروہ عزائم کو خاک میں ملانا ہوگا ، جو یہاں کے عوام کو علاقائی، لسانی اور مذہبی بنیادوں پر تقسیم کرکے اپنے حقیر مفادات حاصل کرنا چاہتے ہیں۔سی این آئی کے مطابق ان باتوں کااظہار صدرِ نیشنل کانفرنس ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے سنگلدان رام بن میں کارکنوں کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقعے پر سیاسی صلح کار مشتاق گورو ،ڈی ڈی چیئرپرسن رام بن ڈاکٹر شمشاد شان اور دیگر عہدیداران بھی موجود تھے۔ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ زور زبردستی، فرقہ پرستی اور مذہب کے نام پر ووٹ حاصل کرنا ایک ملک کی جمہوریت کیلئے سمِ قاتل ہے لیکن بدقسمتی سے ہمارے ملک میں یہ رجحان دن بہ دن بڑھتا جارہاہے جو انتہائی تشویشناک صورتحال ہے اور اس صورتحال نے ملک کے ذی حس اور باشعود عوام کو فکرمیں ڈال دیاہے۔ انہوں نے کہاکہ ملک کے آئین میں ہر ایک مذہب سے تعلق رکھنے والے عوام کو مذہبی آزادی حاصل ہے اور اسی آئین کے تحت جموں وکشمیر کے عوام کو خصوصاً مراعات دیئے گئے تھے لیکن بدقسمتی سے موجودہ حکمرانوں نے یہاں کے عوام کے ان حقوق پر ڈاکہ زنی کی۔ نیشنل کانفرنس جموںوکشمیر کے عوام کے حقوق کی بحالی کیلئے لڑتی رہے گی اور نئی دلی کو ایک نہ ایک دن یہاں کے عوام کو یہ حقوق واپس کرنے ہی ہونگے۔ اُن کا کہنا تھا کہ نیشنل کانفرنس نے پسماندگی طبقوں کی زندگیاں بہتر بنانے کیلئے جو کام کیا ہے اُس کا کوئی ثانی نہیںہوسکتا ہے۔انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ تاریخ کا مطالع کریں اور نیشنل کانفرنس کے تاریخی اور انقلابی اقدامات کے بارے میں باخبر ہوجائیں اور دوسروںکو بھی اس سے آگاہ کریں۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے پارٹی سے وابستہ لیڈران پر زور دیا کہ وہ عوام کیساتھ قریبی رابطہ رکھیں اور خود کو عوام کیلئے ہر حال میں وقف رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ عوامی حمایت ، تعاون اور اشتراک سے ہی ہم بڑے بڑے چیلنجوں کا سامنا کرسکتے ہیں ۔ ہماری جماعت نے ماضی میں بھی بڑے بڑے چیلنجوں کا سامنا کرکے سرخرو ہوکر اُبھی ہے لیکن یہ اُسی صورت میں ممکن ہوپایا جب ہماری جماعت کو عوام کا بے پناہ تعاون اور اشتراک حاصل تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں