Img 20240310 141003

تاخیر ، تدبیر اور توبہ!

تاخیر ، تدبیر اور توبہ!

توصیف احمد وانی پدگام پورہ اونتی پورہ

محاورے بنی نوعِ انسانی کی اجتماعی دانش کے مقولے ہوتے ہیں۔ صدیوں کا تجربہ جب ایک جملے میں مجتمع ہوتا ہے تو محاورہ جنم لیتا ہے۔ ایک زبان میں مستعمل محاورے کا متبادل محاورہ بالعموم دوسری زبانوں میں بھی پایا جاتا ہے۔

انگریزی زبان میں کہا جاتا ہے:it is never too late to mend — اس کا متبادل محاورہ اُرود زبان میں یوں بولا جاتا ہے:” صبح کا بھولا شام کو گھر آجائے تو اسے بھولا ہوا نہیں کہتے۔”واپس پلٹنے کو توبہ کہتے ہیں۔ دین ِ اسلام دینِ فطرت ہے— یہی محاوراتی سچائی ہمیں دینی مزاج میں بھی دکھائی دیتی ہے۔ ہمیں بتایا گیا ہے کہ آخری سانس سے پہلے تک توبہ قبول ہوتی ہے۔ مراد یہ ہے کہ توبہ کرکے مرنا، توبہ کیے بغیر مرنے سے بہتر ہے۔

ایمان بھی کفر سے توبہ کا نام ہے۔ کفر بغاوت ہے ، اسلام اطاعت ہے۔ شورش میں شور ہے— اطاعت میں سلامتی ہے— شعور ہے! کفر سے تائب ہوکر انسان اسلام میں داخل ہوتا ہے۔ اسلام میں داخل ہونے کے بعد دو راستے ہیں— ایک ایمان کی طرف جاتا ہے اور دوسرا نفاق کی طرف! اسلام سے پلٹ کر انسان کفر میں داخل ہو تو اسے ارتداد کہتے ہیں۔ یہ سفرِ معکوس ہوگا۔ سفرِ ِ معقول یہ ہے کہ انسان اسلام سے ایمان داخل ہوتا۔ سفرِ عروج یہ ہے کہ ایمان سے درجہ ِ احسان میں داخل ہو جائے۔

اسلام زبان سے نکل کر دل میں داخل ہو جائے تو اسے ایمان کہیں گے۔ اگر ایمان انسان کے وجود میں یوں داخل ہو جائے کہ اس کا کردار اور عمل اسلام کا شاہد ہو جائے، وہ خود سلامتی کا چلتا پھرتا تعارف بن جائے تو یہ درجہِ احسان ہے۔ احسان درحقیقت مشاہدے کا درجہ ہے۔ صاحبِ مشاہدہ ، مشاہدے کی دعوت دے سکتا ہے۔ ایمان کا ذائقہ چکھنے والا دعوتِ ایمان کا دستر خوان بچھا سکتا ہے۔ زبانی کلامی اسلام کی باتیں کرنے والا اگر داعی ہونے کا دعویٰ کرے تو بات نہیں بنتی۔ اسلام کا رخ انسان اور احسان سے پھیر کر فقط اعتقادات وعبادات تک محدود کرنے والے نادان روحِ دین سے دُور ہیں۔

حدیث پاک کا مفہوم ہے کہ کوئی شخص اس وقت تک مسلمان نہیں ہو سکتا جب تک اس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے سلامت نہ ہوں۔ گویا مسلمان ہونے کی پہلی شرط مخلوقِ خدا کے لیے بے ضرر ہو جانا ہے۔ مستند حدیثِ پاک ہے:” جس میں پاسِ عہد نہیں، اس کا کوئی دین نہیں۔ جس میں پاسِ امانت نہیں، اس کا کوئی ایمان نہیں۔” بات طے ہوئی کہ کسی کے دین دار ہونے کی شرط یہ ہے کہ وہ اپنے وعدے کا پاس کرنے والا ہو، کسی کے مومن ہونے کی شرائط میں یہ شامل ہے کہ وہ امانت دار ہو۔ محاورے میں بھی امانت دار کو ایمان دار کہا جاتا ہے۔

حدیثِ پاک میں منافق کی چار نشانیاں بتائی گئی ہیں: بات کرے تو جھوٹ بولے، وعدہ کرے تو ایفا نہ کرے ، امانت دار بنایا جائے تو امانت میں خیانت کرے اور جھگڑا کرے تو گالم گلوچ پر اُتر آئے۔ گالی دینا دراصل کسی کے عزتِ نفس پر حملہ آور ہونا ہے۔ اگر غور کیا جائے تو یہ عادات رکھنے والا شخص بنی نوعِ انسان کے لیے سامانِ ضرر ہے۔ اس کے برعکس مومن اپنے ایفائے عہد اور پاسِ امانت کے باعث سرتاپا منفعت بخش ہے۔

ہادئ دوراں، بانئ دینِ مبینؐ— بنی نوعِ انسان کے لیے مجسم سرچشمہ ہدایت و اخلاق ہیں۔ مرشدی حضرت واصف علی واصفؒ فرماتے ہیں کہ اخلاق ایک ایسے طرز فکر و عمل کا نام ہے جس پر چلتے ہوئے ایک انسان پہلے مرحلے پر دوسرے انسانوں کے لیے بے ضرر ہو جاتا ہے اور پھر منفعت بخش ہو جاتا ہے۔ فقیری کی تعریف بھی یہی ہے کہ فقیری شروع ہوتی ہے بے ضرر ہونے سے اور مکمل ہوتی ہے منفعت بخش ہونے پر۔ گویا فکرِ اسلام فقر ہے۔ فقر اپنی کنہ میں فقرِ حیدری ؑہے۔ یہی وہ فقر ہے جس پر سرکارِ دوعالمؐ کو فخر ہے— الفقر فخری! رحمت للعالمینؐ کا نام لیوااُمتی اگر اپنے دائرہِ فکر و عمل میں منفعت بخش نہ بنے تو اُس کا دعویٰ ِ اسلام و ایمان محلِ نظر ہے۔ اَز روئے احادیث، ایمان اور نفاق میں فرقان ذات ، ذاتِ حیدرؑ ہے۔ فکر و فقرِ حیدریؑ سے معرض اور معترض ایمان سے دُور اور نفاق سے قریب ہے۔

باب العلم حضرت علی المرتضیٰ ؑ کا قول ہے کہ توبہ روح کا غسل ہے، جتنی بار بھی کرو گے ، پاکیزہ تر ہوتے رہو گے۔ اگرچہ توبہ میں تعجیل مقدم ہے، لیکن اگر کسی وجہ سے تاخیر ہو جائے تو مایوس ہوکر توبہ ترک نہ کرنی چاہیے، بلکہ یہ یاد رکھنا چاہے کہ توبہ قبول کرنے والے نے توبہ کا دروازہ کھلا رکھا ہے۔ اگر حالات و واقعات کا جبر کسی سے عمل صالح چھین لے تو بھی توبہ کا کھلا دروازہ اسے مائل بہ عمل رکھتا ہے۔ توبہ دراصل پلٹنے کا خیال ہی تو ہے۔ یہ خیال جب قول و فعل کی صورت میں ظہور پذیر ہوتا ہے تو انسان تائب کہلاتا ہے۔ تائب ہی نائب ہوتا ہے۔ زمیں زاد کا زمین پر پہلا عمل توبہ ہے۔ توبہ کا پہلا کلمہ حضرت آدمؑ سے منسوب ہے — ربنا ظلمنا انفسنا۔ فعلِ نہی کے بعد اپنے خسارے کا احساس دعائے آدمؑ میں بدرجہ اتم موجود ہے۔ ہبوطِ آدمیت دراصل روح کی لطافت کا جسم کی کثافت کی طرف متوجہ ہوناہے۔ روح کے تقاضوں سے جسم کے تقاضوں کی طرف ہبوط ہی ابن آدم کا خسارہ ہے۔ اس کی خسارے کا تدارک توبہ ہے۔

تائب اپنی توبہ پر قیام کے سبب منیب اور پھر اوّاب کے درجے پر فائز ہوتا ہے۔ تایب معصیت سے مغفرت کی طرف پلٹنے والے کا نام ہے۔ منیب اپنے دل کو غیبت سے حضوری میں لانے والے کو کہیں گے۔ اوّاب اپنی ذات سے پلٹ کر ذاتِ حقیقی کی طرف ہمہ حال راجع ہونے والی شخصیت ہے۔ یہ مقامِ عبدیت ہے۔ معصوم عن الخطا انبیاء و مرسلین کا توبہ کرنا یوں سمجھ میں آتا ہے۔ نعم العبد انّہٗ اوّاب —” کیا ہی خوب بندہ ہے اور کیا ہی خوب رجوع کرنے والا ہے”— بالیقین یہ مقربین کا درجہ ہے۔ عام فہم الفاظ میں ہم یوں سمجھ سکتے ہیں: تائب درجہ اسلام میں ہے، منیب درجہ ایمان میں اور اوّاب درجۂ احسان میں ہے!

توبہ کے باب میں ایک سالک ورطۂ حیرت میں ہے— فقط ایک توبہ میں ابتدا سے انتہا تک قرب کی تمام منازل شامل ہیں۔ توبہ ہر خاص و عام پر یوں واجب ہے۔ ہادیِ مرسلﷺ کا ایک دن میں ستر مرتبہ توبہ کرنا— دراصل ایک دن میں ستر مرتبہ شربتِ وصل کا شرف حاصل کرنا ہے۔ طریقت کے تمام دروس اور تمام کتب میں ایک بات تواتر کے ساتھ بتائی اور لکھی گئی ہے کہ طریقت کا پہلا باب توبہ ہے۔ قرونِ اُولیٰ میں صالحین و سالکین اپنی ابتدائی بیعت کو توبہ سے تعبیر کیا کرتے تھے— سالکین ِ طریقت اپنی پہلی بیعت کا حال یوں بیان کیا کرتے کہ میری توبہ فلاں بزرگ کے ہاتھ پر ہوئی۔

مانگنے والا محدود ہے— عطا کرنے والا لامحدود ہے۔ اس کا حوصلہ بھی لامحدود ہے۔ انسان گناہ کرتے کرتے تھک جاتا ہے، وہ معاف کرتے ہوئے نہیں تھکتا — وہ تو اپنے بندے کی راہ تک رہا ہوتا ہےکہ بندہ کب اس کی طرف لوٹ کر آتا ہے۔ بندہ ہی بے وفا ثابت ہوتا ہے— وہ مجسم وفا ہے۔ اس نے مانگنے والے کو دیا— اس نے ہمیشہ توبہ کرنے والے کی توبہ قبول کی— وہ مجسم سچائی ہے— مجسم وفا— وہ اپنے وعدے کے خلاف کبھی نہیں کرتا — انک لا یخلف المیعاد۔ لامحدود ذات کی ہر صفت لامحدود ہے۔ اس کی رزاقیت لامحدود ہے— اس کی رحیمیت لامحدود، اس کی غفاریت لامحدود! لامحدود کو تقدیم و تاخیر لاحق نہیں۔ لامحدود کبھی کم نہیں پڑتا۔ لامحدود کی کم سے کم تعریف ہی یہ ہے کہ اس کی حد مقرر نہیں کی جا سکتی۔ ستار العیوب ، غافر الذنوب— قادرِ مطلق ذات کتنی مرتبہ معاف کرنے پر قادر ہے؟ —اس کی کوئی حد مقرر نہیں کی ہوسکتی۔ توبہ میں تعجیل و تاخیر انسان کے اپنے حال کی بہتری کے متعلق ابواب ہیں۔ توبہ میں تعجیل انسان کی اپنی ذات میں بہتر سے بہتری کا باب ہے۔توبہ میں تاخیر کرنے والا اپنے وقت ، وجود اور وسائل کر برباد کرتا ہے۔

احسن الخالقین نے انسان کو احسنِ تقویم پیدا کیا ہے۔ کائنات کو اگر ایک شجر سے تعبیر کیا جائے تو انسان اس شجرِ کائنات کا ثمر ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے خالقِ کائنات کو اپنی شاہکار تخلیق کا معصیت کے ہاتھوں تختہ مشق بنتے دیکھ کر دُکھ ہوتا ہے۔ اس پر وہ تاسف کا اظہار بھی کرتا ہے— قران میں ہے: یاحسرۃ علی العباد—” افسوس ہے انسانوں پر۔ معصیت سے نکل کر مغفرت کی آغوش میں آنے والا درحقیقت خالق ِکائنات کے عظیم الشان کائناتی منصوبے کو ثمر بار کرتا ہے۔ خود کو برباد کرنے والا مقصدِ تخلیقِ انسان کو سبوتاژ کرتا ہے۔ توبہ کرنے والا اپنی بربادی کو آبادی میں بدلنے کی تدبیر کرتا ہے۔ توفیقِ الٰہی شامل ِ ہو تو یہ تدبیر، حسنِ تدبیر میں بدل جائے۔ تائب منیب ،اور منیب اوّاب کے رتبے میں رفعت کناں ہو جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں