بقیع کی تحریک سے ظالم ہے نقاب ہو رہا ہے ۔ مولانا محبوب مہدی نجفی

تعمیر بقیع تک یہ تحریک جاری رہے گی ۔ مولانا اسلم رضوی

ممبئی // حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی جانگداز اور دلسوز شہادت کی مناسبت سے زوم کے ذریعے البقیع آرگنائزیشن شکاگو امریکہ کی جانب سے ایک عظیم الشان انٹرنیشنل کانفرنس مولانا محبوب مہدی عابدی نجفی کی صدارت میں منعقد ہوئی جس میں مختلف ملکوں کے بزرگ علما و دانشوروں نے جنت البقیع کی تعمیر کا سعودی حکومت سے مطالبہ کیا ۔
اس اہم کانفرنس کا آغاز کرتے ہوئے البقیع آرگنائزیشن کے سربراہ ، بزرگ عالم دین و مفسر قرآن کریم مولانا سید محبوب مہدی عابدی نجفی نے فرمایا کہ چند سال پہلے ایس این این چینل کے ذریعے بقیع کی تعمیر کے لیے جو تحریک شروع ہوئی تھی اس کا اثر پورے ہندوستان میں دکھائی دے رہا ہے اس سال پورے ہندوستان میں بقیع کے لیے زبردست احتجاج ہوا خاص کر شہر ممبرا (ممبئی) میں جو احتجاج ہوا اس کے لیے لفظ عظیم الشان بالکل فٹ بیٹھتا ہے ۔اب زمان ومکان کے اعتبار سے بقیع کی تحریک کا دائرہ وسیع ہو گیا ہے کیوں کہ پہلے یہ احتجاج صرف آٹھ شوال کو ہوتا تھا اور محدود علاقوں میں ۔
جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ بقیع کی تعمیر کے لیے تحریک چلانے کی کیا ضرورت ہے تو انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ اس تحریک سے ظالم روز بروز بے نقاب ہو رہا ہے ۔
قطر دوحہ سے ادیب ، مفکر او شاعر اہلبیت جناب اقبال رضوی شارب نے بارگاہ عصمت و طہارت میں منظوم نذرانہ عقیدت پیش کرتے ہوئے فرمایا ۔
نور عالم مصطفیٰ یہ نور چشم مصطفیٰ:- مرسل اعظم کے گھر میں روشنی زہرا سے ہے :-
عاشقی کا کون سا یہ روپ ہے میرے خدا :- عشق احمد لب پہ ہے اور دشمنی زہرا سے ہے
امریکا سے محترم عالم دین مولانا سید نفیس حیدر تقوی نے عالم اسلام کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ قمری اعتبار سے بقیع کے روضوں کو منہدم کیے ہوئے پورے سو سال ہو گیے ہیں اور عیسوی سن کے اعتبار سے سو سال مکمل ہونے والے ہیں لیکن ہائے افسوس ابھی تک بقیع کے روضے تعمیر نہیں ہو سکے اس لیے اب وقت آگیا ہے کہ تمام مسلمان اس تحریک میں ہمارا ساتھ دیں تاکہ وہاں ایک خوبصورت روضہ تعمیر ہو سکے ۔
افریقہ کے مشہور ملک تنزانیہ کی راجدھانی دار السلام سے ایک فعال اور انقلابی عالم مولانا سید عدیل رضا عابدی نے فرمایا کہ جنت البقیع کی تحریک اب کسی ایک علاقے سے محدود نہیں ہے بلکہ اب یہ تحریک عالمی ہو چکی ہے جنت البقیع کو قران کریم سے ثابت کیا جا سکتا ہے انشاءاللہ بہت جلد اس امر میں ہمیں کامیابی حاصل ہوگی۔
عالمی شہرت یافتہ خطیب عبقری مولانا وصی حسن خان نے نہایت جاذب و دلکش انداز میں تقریر کرتے ہوئے فرمایا کہ مدفونین بقیع کل بھی مظلوم تھے اور آج بھی مظلوم ہیں یہ کیسا ناقابل برداشت ظلم ہے کہ ہندوستان سمیت پوری دنیا میں امتی کی قبروں پر تو خوبصورت روضہ تعمیر ہو مگر جگر گوشۂ ہای پیغمبر کی قبریں زیر آسمان ہوں ۔
حسب معمول آخری مقرر کی حیثیت سے مولانا اسلم رضوی نے فرمایا کہ بقیع کی تحریک کو جاری رکھنے کا وہی ثواب ہے جو مصائب شہدائے کربلا کے بیان کرنے سے ملتا ہے کیوں کہ دونوں مقام پر جو چیز مشترک ہے وہ مظلومیت اہلبیت ہے ۔
مولانا علی عباس وفا صاحب نے نظامت کے فرائض انجام دیے ۔
مولانا اسلم رضوی کی دعا پر یہ کانفرنس منزل اختتام تک پہنچی ۔
یہ کانفرنس ایس این این چینل ، امام عصر آفیشیل اورنگ آباد اور دیگر چینل سے براہ راست نشر کی گئی ۔
آخر میں البقیع آرگنائزیشن کے سربراہ مولانا سید محبوب مہدی عابدی نجفی نے مقررین کا شکریہ ادا کیا ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں