بعثت اور حسینیت کا مقصد ایک

تحریر: محمد رضا مبلغ جامعہ امامیہ تنظیم المکاتب

اگر رسول اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت کا مقصد، یگانہ و واحد پروردگار کی اطاعت و عبادت کی دعوت دینا ہے تو امام حسین ؑ نے پوری زندگی اور کربلا کے میدان میں جب جب فوج یزیدی کو خطاب کیا ہے تب تب اللہ کی طرف اور اسلام کی طرف بلایا۔

حوزہ نیوز ایجنسی | ’’اگر رسول اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت کا مقصد، یگانہ و واحد پروردگار کی اطاعت و عبادت کی دعوت دینا ہے تو امام حسین ؑ نے پوری زندگی اور کربلا کے میدان میں جب جب فوج یزیدی کو خطاب کیا ہے تب تب اللہ کی طرف اور اسلام کی طرف بلایا ‘‘

قران مجید کی رو سے جہاں عبادت پروردگار کی طرف لوگوں کو دعوت دینے اور طاغوت اور سرکش افراد کے چنگل سے بھولی بھالی انسانیت کو بچائے رکھنا انبیا ء کی بعثت کا اہم مقصد ہے :’’ لقد بعثنا فی کل امۃ رسولاً ان اعبدو اللہ و اجتنو الطاغوت ‘‘ وہیں علم و حکمت کی تعلیم دے کر انسانوں کو جہالت کے ندھیرے سے ابار نا ، لوگوں کے نفوس کا تزکیہ اور ان کے اندر بھری ہوئی باطنی الودگیوں کو دور کر کے حقیقی انسان و مسلمان اور صاحب ایمان بنانا ، بازار عکاظ سے لے کر ، مکہ کے گلی کوچوں میں ان جاہلوں کے درمیاں حق اور ہدایت کے سرچشمہ قران کی تلات کرنا ، جو تباہ کن عشقیہ ، جام و مینا کی ترجمان اور انسانی مزاج کو فساد کی طرف ڈھکیلنے والی شاعری میں غرق تھے ۔یہ بھی بعثت رسول ؐ کے اہم مقاصد میں شمار کئے جاتے ہیں ۔

اسلامی تاریخ کے مطالعہ سےیہ بات واضح ہوتی ہے کہ بعثت مرسل اعظم کے اور بھی مقاصد سیرت رسول کے اوراق میں منقوش ہیں۔منجملہ ، مکارم اخلاق کی تکمیل، عرب و عجم ، آقا اور غلام ، سیا ہ فام اور اجلے چہرے والوں کے درمیان مساوات کا پیغام سنانا ، بت پرستی اور شرک کی نجاست سے بچا کر یکتا و واحد خدا کی طرف دعوت دینا ، الٰہی دین اور نظام عدل کو غلبہ دلانا ۔

۲۷ رجب المرجب کو بعثت رسول اکرم ﷺ کا مبارک دن ہے اور ۲۸ رجب المرجب کو فرزند رسول کا مقاصد بعثت کی تکمیل و ترویج کے لئے ہجرت کا دن ہے ۔

یعنی جن مقاصد کے نفاذکے لئے اللہ نے رسول کو مبعوث برسالت کیاتھااُنھیں مقاصد کی تکمیل کے لئے امام حسین ؑ نے اپنے وطن کو خیر باد کہا ۔ امام حسینؑ نے حدود مدینہ سے دور ہوتے وقت ارشاد فرمایا تھا : جنگ و جدال ، اختلاف و انتشار ، سرکشی اور نا فرمانی میرا مقصد نہیں ، بلکہ میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی غرض سے مدینہ سے نکل رہا ہوں ۔ میرا مقصد نانا کی امت کی اصلاح کے سوا کچھ نہیں ۔اور سب سے اہم بات تھی کہ میں اپنے نانا رسول خدا ؐ اور بابا علی مرتضیٰؑکے مقاصد کو آگے بڑھانے اور پایۂ تکمیل تک پہنچانے کی غرض سے مدینہ سے نکل رہا ہوں ۔

اس وصیت نامہ سے صاف ظاہر ہو جاتا ہے کہ امام حسین ؑ کے سفر کے مقاصد وہی تھے جو بعثت رسول کے مقا صد قرآن نے بیان فرمائے ہیں ۔اور جس کا نمونہ اللہ کے رسول نے اپنی حیات طیبہ میں عملی شکل میں پیش کیا ۔

اگر رسول اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت کا مقصد، یگانہ و واحد پروردگار کی اطا عت و عبادت کی دعوت دینا ہے تو امام حسین ؑ نے پوری زندگی اور کربلا کے میدان میں جب جب فوج یزیدی کو خطاب کیا ہے تب تب اللہ کی طرف اور اسلام کی طرف بلایا ۔

بعثت رسول کا مقصد خود کو اور لوگوں کو طاغوت سے بچانا تھا تو امام حسین ؑ نے سر بلندی اور سرفرازی کے ساتھ جام شہادت نوش کیا مگر طاغوت وقت (کی یزید کی) بیعت نہیں کی اور اپنی قر بانی پیش کرکے تمام عالم انسانیت کے لئے یزید وقت سے بیزاری کا معیار و پیمانہ بھی بتایا کہ جو بھی انسان دین خدا ، قرآن ، وحی الٰہی ، فرشتوں اور الٰہی نمائندوں کا انکار کرے وہ یزید ملعون کا نمائندہ شمار ہوگا ۔اس سے برائت ضروری اور واجب ہے ۔

بعثت پیغمبر ؐ کا اہم مقصد عرب کے بد ئوں کے سامنے تلاوت قرآن کرکے دین اسلام کو عام کرنا تھا تو دلبند رسول نے آپ کی سیرت اور مقصد کو کچھ اس انداز سے آگے بڑھایا کہ بریدہ سر ،نوک نیزہ پرمسلسل تلا و ت قرآن میں مصروف ہے ۔

بعثت رسول کااہم مقصد لوگوں کے نفسوں کا تزکیہ کرنا تھا۔اللہ کے محبوب نے اس ذمہ داری کو بحسن و خوبی نبھایا ،اور بقدر ظرف لوگوں نے ہدایت و کامرانی کی راہ کو اپنایا۔ جو بد بخت تھے وہ بت پرست ہی رہے ، جو خوش نصیب تھےیعنی جن کے دلوں میں ایمان کی رمق تھی وہاں ایمان کی شمع روشن ہو گئی ۔ جس کی مثالیں عمار یاسرؓ ، بلالؓ ، سلمانؓ ، مقدادؓ اور ابو ذرؓ کی شکل میں نظر آئیں ۔

اسی سیرت اور مقصد کو آگے بڑھاتے ہوئے لوگوں کے نفوس کا تزکیہ کیا اور قدم قدم پرگنہگارو دلوں پر اپنے نورانی کلام کی آب پاشی کی ۔مگر جن کے دل مردہ ہو چکے تھے اور پیٹ حرام غذا سے بھرے ہوئے تھےان پر کوئی اثر نہیں ہو الیکن جس کے دل کو خدا نےتقوے کے ذریعہ آزما لیا تھا اس نے فوراً توبہ کی ،گمراہی سے ہدایت کی طرف آ گیا جس کی مثال حضرت حر بن یزید ریاحی ؒ ہیں ۔

بعثت رسول کا مقصد عرب و عجم ، کالے اور گورے اور آقا و غلام کے درمیان مسا و ا ت قائم کرنا تھا۔جیسا کہ رسول نے عجم کے سلمان کو گلے کر اپنایا ، بلال سیاہ فام کی پیشانی چوم کر موذن اسلام کے اعزاز سے نوازا ۔تو امام حسین ؑ نے کربلا کے میدان میں ہر ایک کو پرچم مساوات کے تلے جما کیا ۔ وہب کلبیؓ( نصرانی) ، زہیر قینؓ ( عثمانی )حبیبؓ جیسے اصحاب کو اصحاب با وفا کی سند بخشی اور جون جیسے سیاہ فام غلام کے سر کواپنے زانوئے اقدس پر رکھ کر دعا کی:’’ پرو ردگار ! جون کے چہرے کو سفید اور منور اور اس کے جسم کو معطر فرما ۔‘‘

اگربعثت رسول ؐ کابنیادی مقصد دین خدا کو تمام ادیان عالم پر غلبہ دلانا تھا اوررسول اسلامؐ نے عرب جیسے بت پرست اور شرک آلود ماحول میں اسلام کا پرچم لہرادیااور بتوں کی پوجا کرنے والی زبانوں سے اسلام کا کلمہ پڑھوادیا ،امام حسین ؑ نے بھی اپنے نانا کے عظیم مقصد کی انجام دہی کے لئے کربلا کے میدان میں اپنی جان دے کر اسلام کے پرچم کو عالم انسانیت میں لہرایا اور نوک نیزہ کی بلندی کو منبر بناکر اسلام کی فتح کا اعلان کیا۔

انشاء اللہ وہ وقت بھی آئے گا کہ جب وارث حسین ؑ دین اسلام کو پوری دنیا میں نافذ کرےگا۔اس وقت ہر طرف حق وعدل کا بول بالا ہوگا،ایک دوسرے کے حقوق کی رعایت کی جائےگی اورکسی پر ذرہ برابرظلم وستم نہیں کیا جائے گا ۔الٰہی آمین

اپنا تبصرہ بھیجیں