Images (2)

بر طرف کئے گئے ہینڈی کرافٹس کے 16ملازمین کے بارے میں ہائی کورٹ کی ہدایت

دلائل سنے بغیر ملازمین کو برطرف کرنا انصاف کے منافی /جسٹس ایم اے چودھری

سرینگر // کسی بھی عارضی ملازم کو نوکری سے نکال دینا غیر قانونی قرار دیتے ہوئے جموں وکشمیر لداخ ہائی کورٹ نے کہاکہ جن ملازمین کے خلا ف کارروائی عمل میں للائی جاتی ہے ان کانقطہ نگاہ کوبھی سننا لازمی ہے جس کے اقدامات اٹھائے جائیں۔ جموں و کشمیر لداخ ہائی کورٹ کی جانب سے 16ستمبر 2022کو ہینڈی کرفٹس ڈیپارٹمنٹ کے منیجنگ ڈائریکٹر کی جانب سے نوکری سے برطرف کئے گئے عارضی ملازمین کو راحت کافیصلہ سنایا گیا جموںوکشمیر لداخ ہائی کورٹ کے سنگل بینچ جسکی سربراہی جسٹس ایم چودھری کررہے تھے برف طرف کئے گئے ۔ملازمین کی جانب سے دائرکی گئی عرضی کی شنوائی کے بعد فیصلہ سناتے ہوئے منیجنگ ڈائریکٹر کی کارروائی کوا نصاف کے منافی قرار دیتے ہوئے کہاکہ اگرچہ سرکار کوبدعنوان ملک دشمن یاغیرقانونی سرگرمیوں میں ملوث ملازمین کوبرطرف کرنے کاپوراپوراحق ہے تاہم جن 16ملازمین کومیٹنگ ڈائریکٹرکی جانب سے روز گا رسے محروم کردیاگیاہے ان کا نقطہ نگاہ نہیں جانا گیا جو انصاف کے منافی ہے ۔عدالت نے اپنے فیصلے میں کہاکہ کسی بھی عارضی ملازم جوہنگامی بنیادوںپراپنے فرائض انجام دیتی ہے اور اس کے بغیرکسی وجہ کے روز گار سے محروم کرنا جائز نہیں ہے اور دلائل سننے بغیراحکامات صادررکرنا قانون کی بھی خلاف ورزی ہے ۔عدالت نے ہینڈی کرفٹس محکمہ کوہدایت کی کہ برطرف کئے گئے 16ملازمین کی بات کوسناجائے او راگر انہوںنے ایسی کوئی کارروائی کی ایساکوئی کام کیاجومحکمہ کے قوائد وضوابط کے خلاف ہے توکارروائی کو حق بجانب قرار دیاجاسکتاہے تاہم اس کے لئے ضروری ہے کہ نکالے گئے ملازمین کی بات مدنظررکھی جائے ۔واضح رہے کہ کئی ملازمین نے ہینڈی کرفٹس ڈیپارٹمنٹ کے منیجنگ ڈائریکٹرکے خلاف بد عنوانی کے مبینہ طور پرالزامات عائدکئے تھے جس کے بعد 16 عارضی ملازمین کوبرطرف کرنے کے احکامات صادرکئے تھے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں