Images (3)

بجلی کی غیر معقول فراہمی کی وجہ سے وادی میں قدیم روایت پھر سے زندہ ہورہی ہیں

شام کے اوقات بجلی بند رہنے کی وجہ سے لوگ ’’لالٹین اور موبتیاں ‘‘ جلانے پر مجبور

سرینگر//وادی کشمیر میںبجلی کی ابتر صورتحال کے نتیجے میں لوگ اب پھر سے ’’لالٹین‘‘ کا استعمال کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں کیوں کہ جن گھروں میں انویٹر ہے وہ بجلی کی غیر معقول سپلائی کی وجہ سے چارج بھی نہیں ہوتے اور جن گھروں میں انویٹر نہیں ہے وہ پہلے ہی لالٹین اور موبتیاں استعمال کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ وائس آف انڈیا کے مطابق کشمیر میں مسلسل بجلی کٹوتی کے بیچ محکمہ بجلی نے کہا کہ اسے تقریباً 400 میگاواٹ (میگاواٹ) بجلی کی کمی کا سامنا ہے۔وادی میں گزشتہ 10روز سے بجلی کی سپلائی میں خلل اور غیر اعلانیہ کٹوتی کے نتیجے میں صارفین سے لیکر تاجر اور صنعت کار زبردست پریشان ہے۔صارفین کا کہنا ہے کہ محکمہ بجلی اپنے ہی شیڈول کو عملانے میں ناکام ہوگئی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ محکمہ نے اعلان کیا تھا کہ صارفین کو چوبیسوں گھنٹے بجلی فراہم کی جائے گی اور اب جب شہری علاقوں میں بیشتر جگہوں پر کیبل اور اسمارٹ میٹر نصب کئے گئے ہیں اور فیس بھی وصول کیا جا رہا ہے تو محکمہ بجلی اپنے واعدے سے کیوں انحراف کر رہی ہے۔صارفین کا کہنا ہے کہ بچوں کے امتحانات شروع ہو رہے ہیں جبکہ موسم سرما میں دمے کے مریج آکسیجن کنسنٹیٹروں کا استعمال کر رہے ہیں تو محکمہ بجلی کیونکہ اس طرح کی روایہ اپنا سکتا ہے۔طویل مدتی بجلی کی کٹوتیوں اور غیر طے شدہ بجلی کی کٹوتیوں کے بارے میں پوچھے جانے پر، محکمہ بجلی کے ایک افسرنے کہا کہ کشمیر میں بجلی کی بہت زیادہ کمی ہے۔ان کا کہنا تھا’’ابھی تک، ہمارے پاس مناسب بجلی دستیاب نہیں ہے۔ فی الحال، کے پی ڈی سی ایل بجلی کی کمی کا شکار ہے۔انہوںنے کہا’’تقریباً 300-400 میگا واٹوں کی کمی ہے۔ بجلی کی قلت کے پیش نظر، کشمیر میں کچھ ایسے علاقے ہو سکتے ہیں جو پریشان کن کٹوتیوں اور غیر طے شدہ بندش کا سامنا کر رہے ہوں گے۔‘‘اس ہفتے کے شروع میں، محکمہ بجلی نے مطلع کیا تھا کہ اس نے بجلی کی بندش کے معاملے کو حل کر دیا ہے جس کا سامنا اس کے صارفین کو گزشتہ ہفتوں سے کرنا پڑ رہا تھا۔اس کے علاوہ محکمہ نے یہ بھی بتایا کہ وہ لوڈ میں کمی کے پروگرام پر نظر ثانی کر رہا ہے تاکہ بجلی کی کٹوتیوں کو کم سے کم کیا جا سکے۔کے پی ڈی سی ایل کے ایک سنیئر افسر نے کہا کہ بجلی کی دستیابی میں کمی کے باوجود، وہ سپلائی کو ہموار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انکا کہنا تھا’’ہم اس پر کام کر رہے ہیں۔ امید ہے کہ رمضان کے روزے کے مہینے سے پہلے سپلائی بہتر ہو جائے گی۔کے پی ڈی ڈی کے پرنسپل سکریٹری ایچ راجیش پرساد نے کہا تھا کہ محکمہ زیادہ نقصان پہنچانے والے فیڈروں کو چلانے پر توجہ مرکوز کر رہا ہے جہاں بجلی کی چوری کی وجہ سے اے ٹی اینڈ سی نقصانات زیادہ ہیں۔پرساد نے کہاکہ ہم نقصانات کو کم کرنے کے لیے وہاں کچھ پابندیاں لگانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہمارے پاس کچھ ایسے فیڈرز ہیں جہاں نقصانات بہت زیادہ ہیں اور ان علاقوں میں کچھ اضافی بجلی کی کمی ہوگی۔کچھ میٹر والے علاقوں میں غیر طے شدہ بجلی کی کٹوتی کے بارے میں پوچھنے پر، پرنسپل سکریٹری نے کہا’’ہم نے میٹر والے علاقوں میں بھی نقصانات کا پتہ لگایا ہے اور میں نے متعلقہ حکام کو اس سلسلے میں تلاش کرنے کے لیے سخت کارروائیاں جاری کی ہیں۔ میٹر والے علاقوں میں نقصان بالکل قابل قبول نہیں ہے۔‘‘کشمیر کے تقریباً زیادہ تر علاقوں میں غیر طے شدہ بجلی کی کٹوتیوں اور اضافی کٹوتیوں کے بارے میں، پرساد نے بتایا کہ حالیہ برفباری کی وجہ سے بجلی کا بوجھ بڑھ گیا ہے۔انہوں نے کہا’’برفباری کے بعد بجلی کی طلب میں اضافہ ہوا ہے۔ ہماری سپلائی پوزیشن جوں کی توں ہے‘‘۔بجلی کی پیداوار میں کسی تبدیلی کے بارے میں پوچھے جانے پر پرنسپل سکریٹری نے بتایا کہ اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ہے۔ مرکز سے بجلی کی خریداری اور مقامی بجلی کی پیداوار یکساں ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں