Download

بجلی چوری کو روکنے کیلئے گذشتہ دو ماہ کے دوران زائد 35 ہزار شبانہ چھاپے مارے گئے: منیجنگ ڈائریکٹر

سرینگر//کشمیر پاور ڈیولوپمنٹ کارپوریشن لمیٹڈ کے منیجنگ ڈائریکٹر (ایم ڈی) مسرت ضیا کا کہنا ہے کہ وادی میں بجلی چوری پر روک تھام کو یقینی بنانے کے لئے گذشتہ دو ماہ کے دوران زائد 35 ہزار شبانہ چھاپے مارے گئے۔

انہوں نے کہا کہ سال گذشتہ کے ماہ دسمبر سے غیر میٹر والے علاقوں میں بجلی فیس میں 15 فیصد اضافہ کیا گیا جبکہ میٹر والے علاقوں میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا۔موصوف ایم ڈی نے میڈیا کو بتایا کہ وادی کے 19 ڈیویڑنز میں لوڈ ریوائز سروے چل رہا ہے اور صارف سے مل کر لوڈ کے مطابق ایگریمنٹ کو ریوائز کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ جو بجلی زیادہ استعمال کرتے ہیں ان کا بجلی بل تھوڑا بڑھ گیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ موسم سرما میں لوگ بوئلر، ہیٹر، اسٹیمر وغیرہ زیادہ استعمال کرتے ہیں۔انہوں نے کہا: ‘ہماے پاس ہزاروں ایسی مثالیں کہ لوگ ہزار بلکہ دو ہزار لیڑوں والی ٹینکیوں میں بوائلر ڈالتے ہیں اور اس طرح بجلی چوری کرتے ہیں’۔

مسرت ضیا نے کہا کہ وادی میں بجلی چوری پر روک تھام کو یقینی بنانے کے لئے گذشتہ دو ماہ کے دوران زائد 35 ہزار شبانہ چھاپے مارے گئے۔انہوں نے کہا کہ ایسے اقدام کا مقصد یہ ہے کہ ہمارا اچھا صارف متاثر نہ ہوسکے۔ان کا کہنا تھا کہ ہکنگ کا رجحان سال بھر جاری رہنے والی سرگری ہے تاہم سردیوں میں اس میں اضافہ ہوتا ہے کیونکہ اس میں صارفین بوائلر، سٹیمر وغیرہ استعمال کرتے ہیں۔منیجنگ ڈائریکٹر نے کہا کہ ہم سوشل میڈیا ہینڈلز کا استعمال کرکے اپنے صارفین سے بجلی کا جائز استعمال کرنے کی بار بار اپیل کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر لوگ ہمیں تعاون دیں گے تو ہم صارفین کو بلا خلل بجلی فراہم کریں گے۔ان کا کہنا تھا خشک موسمی صورتحال کی وجہ سے مقامی بجلی پیدا وار میں کمی آئی تاہم انتطامیہ کی مدد سے اس پر قابو پا لیا گیا۔انہوں نے کہا کہ حالیہ برف باری سے آنے والے وقت میں مقامی بجلی پیدا وار میں اضافہ ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں