Images (3)

’’ بجلی نہیں فیس نہیں ‘‘ ، کپواڑہ کے متعدد علاقوں میں صارفین کا محکمہ بجلی کیخلاف احتجاج

ترقی یافتہ دور میں ابھی بھی بجلی کا کہیں نام و نشان نہیں ،کب بجلی آئیں اور کب جائیں ، ہمیںکوئی شیڈول نہیں / مظاہرین

سرینگر // بجلی کی فراہمی کولیکربحرانی صورتحال کو لیکر کپواڑہ کے کچھ علاقوں میں لوگوں نے محکمہ بجلی کیخلاف زور دار احتجاج کرتے ہوئے ’’ بجلی نہیں فیس نہیں ‘‘ کے نعرے بلند کئے ۔ احتجاجی مظاہرین کا کہنا تھا کہ دن رات بجلی کٹوتی کا غیر معمولی سامنا کرنا پڑرہا ہے اور دن رات بجلی کی آنکھ مچولی سے لوگ سخت پریشان ہوچکے ہیں۔سی این آئی کو نمائندے نے اس ضمن میں تفصیلات فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ کپواڑہ کے زرہامہ ، گجر پتی ، کاوواری ،لدرون اور مرہامہ علاقوں میں لوگوں نے محکمہ بجلی کیخلاف زور دار احتجاج کرتے ہوئے محکمہ بجلی اپنا بوریا بسترہ باندھ کر کہیں گھپائوں میں چلی جاتی ہے اور لوگوں کو جب چاہئے اپنے نظر کرم سے بہرور کرتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بجلی کی فراہمی کولیکربحرانی صورتحال پائی جاتی ہے جبکہ بجلی صارفین کیلئے برقی رئوکی سپلائی کوعملاً شجرممنوعہ بنادیاگیا ہے ۔ تاہم کشمیرمیں عام صارفین کوکٹوتی کی لاٹھی سے جیسے ہانکاجاتاہے ،وہ حقوق صارفین کی خلاف ورزی ہے کیونکہ اب وادی کے صارفین مفت بجلی استعمال نہیں کرتے بلکہ اُسے زیادہ فیس اداکرتے ہیں جتنی کہ اُنھیں بجلی استعمال کرنے کوفراہم کی جاتی ہے۔صارفین کا کہنا ہے کہ بجلی شیڈول جو مشتہر کیاگیا ہے اس پر بھی عمل درآمد نہیں کیا جارہا ہے اور اضافی کٹوتی کا سلسلہ دراز ہوتا جارہا ہے ۔ انہوں نے احتجاج کرتے ہوئے ’’ بجلی فیس نہیں ‘‘ کے نعرے بلند کئے ۔ لوگوں نے بتایا کہ ترقی یافتہ دور میں ابھی بھی بجلی کا کہیں نام و نشان نہیں ہے اور انہیں پتہ نہیں چلتا ہے کہ کب بجلی آئیں اور کب جائیں ۔ لوگوں نے بتایا کہ اب مارچ کے مہینہ میں بچوں کے امتحان شروع ہونے والے ہیں تاہم جب بجلی ہی نہیں ہے اور وہ پڑھیں گئے کیا ۔ صارفین نے محکمہ بجلی کے خلاف سخت برہمی کااظہارکرتے ہوئے اس ضمن میں ایل جی انتظامیہ سے مداخلت کی اپیل کی ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں