باقی کچھ برداشت ہو یا نہ ہو ،مسلمانوں کی ترقی بھاجپا والوں کو برداشت نہیں ہوتی

وادی میں بھاجپا کے درپردہ حمایت یافتہ اُمیدواروں کوپہچاننا اور مسترد کرنا ضروری/عمر عبداللہ

سرینگر // بی جے پی صرف تقسیم کی سیاست میں یقین رکھتی ہے ، یہ لوگ یکساں سول کوڈ، سی اے اے اور دیگر کالے قوانین لاگو کرنے کی باتیں کرتے ہیں کی بات کرتے ہوئے نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ نے کہا ہے کہ اس کا مقصد صرف اتنا کہ مسلمانوں کو کس طرح سے نشانہ بنایا جائے۔ باقی کچھ برداشت ہو یا نہ ہو ،مسلمانوں کی ترقی بھاجپا والوں کو برداشت نہیں ہوتی ہے لیکن اب اس کے باوجود بھی اگر گریز کا سابق ایم ایل اے بھاجپا میں شامل ہوتا ہے تو اس کا مطلب ہم یہ مان کر چلے تھے کہ انہوں نے یہ قدم گریز کی ترقی کیلئے اُٹھایا ہوگا لیکن گذشتہ برسوں ایسا کچھ بھی دیکھنے کو ملا، موصوف کو ذاتی مفادات ضرور حاصل ہوئے ہونگے لیکن گریز کے عوام کیلئے کچھ نہیں ہوا۔ جس سیاحت کی بات یہ لوگ آج کل کرتے ہیں اُس کا جتنا بھی تھوڑا بہت ڈھانچہ ہے وہ ہماری حکومت نے وہاں کھڑا کیا ہے ۔ ہم سے جتنا ہوسکا ہم نے اپنی طرف سے پوری کوشش کی یہاں تک کہ2014کے الیکشن کے پاس جب ہمیں محض ایک ڈپٹی سپیکر بنانے کا موقع فراہم ہوا تو ہم نے نذیر احمد خان گریزی کو صرف اس لئے چُنا تاکہ وہ گریز کے عوام کیلئے کام کرسکیں۔ عمر عبداللہ نے کہا کہ اگر بھاجپا والوں نے کہیں اور پر ٹنل نہیں بنائی ہوتی تو مجھے گریز کیلئے ٹنل نہ بنانے کا گلہ نہیں ہوتا لیکن اسی بھاجپا حکومت نے ایسی سڑکوں کیلئے ٹنل بنائے جو سال بھر کھلے رہتے ہیں لیکن گریز کی ٹنل کو یکسر نظرانداز کردیا۔سی این آئی کے مطابق عمر عبداللہ پارٹی ہیڈکوارٹر نوائے صبح کمپلیکس میں حلقہ انتخاب گریز کے یک روزہ کنونشن سے کرتے ہوئے کہا کہ گریز میں اگر خوبصورتی کی کوئی کمی نہیں لیکن وہاں کے عوام کے تکالیف بھی بہت ہیں، میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ اگر مجھے پارلیمنٹ میں شمالی کشمیر کی نمائندگی کرنے کا موقع ملا تو میں پارلیمنٹ میں اُس وقت تک گریز ، گریز کے ٹنل اور گریز کے عوام کے مطالبات کو اُجاگر کرتا رہوں گا جب تک نہ مرکزی حکومت اس کیلئے قائل ہوجائے گی۔ بھاجپا اور اس کی پراکسیوں کو ہدف تنقید بناتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ اس الیکشن میں بی جے پی نے اُمیدوار نہیں اُتار ہیں لیکن میدان کھلا نہیں چھوڑاہے، درپردہ طور پر لوگوں کی مدد کی جارہی ہے، ضرورت اس بات ہے کہ ہم دیکھیں کہ بھاجپا والے کس کی مدد کررہے ہیں، بھاجپا کے لوگ کس کو ووٹ ڈال رہے ہیں، اسی سے پتہ چل جائے گا کہ کس کس کی ملی بھگت چل رہی ہے اور کون جموں و کشمیر کیخلاف سازشوں ،یہاں کی آواز کو کمزور اور سیاسی سازشوں کا کامیاب بنانے میں بی جے پی کی مدد کررہا ہے۔ عمر عبداللہ نے پارٹی ورکروں اور عہدیداروں پر زور دیا کہ وہ راستہ کھلتے ہی گریز کا رُخ کریں اور پارلیمانی انتخابات کے ساتھ ساتھ اسمبلی انتخابات کی تیاری بھی شروع کریں۔ انہوں نے کہا کہ خدا نے چاہا تو میں آپ کی پارلیمنٹ میں نمائندگی کروں اور نذیر گریزی آپ کی اسمبلی میں نمائندگی کریں گے اور ہم دونوں مل کر دن رات لگاکر آپ کے خواہشات، احساسات اور جذبات کی ترجمانی کرنے کے ساتھ ساتھ آپ کے مطالبات کو حل کرنے کی پوری کوشش کریں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں