2052695

ایام عزائے فاطمیہ میں ہر جگہ جنت البقیع کو یاد کیا گیا، مولانا آفتاب نقوی

ممبئی// مولانا محبوب مہدی عابدی نے کہا کہ بقیع کی تعمیر تک تحریک جاری رہے گی ۔
زوم کے ذریعے البقیع آرگنائزیشن شکاگو امریکہ کی جانب سے شیعہ و سنی علما پر مشتمل ایک عظیم الشان و تاریخی کانفرنس منعقد ہوئی جس کی صدارت بنگلادیش کے بزرگ عالم دین مولانا آفتاب حسین نقوی نے کی ۔

اس کانفرنس میں میزبان کی حیثیت سے البقیع آرگنائزیشن کے سربراہ معروف خطیب و مفسر قرآن مولانا محبوب مہدی عابدی نجفی نے اپنی عالمانہ تقریر سے کانفرنس کا آغاز کرتے ہوئے پینل میں شامل تمام علما کا شکریہ ادا کیا اور عالم اسلام کو مخاطب کر کے فرمایا کہ اب وقت آگیا ہے کہ تمام مسلمان جنت البقیع کی تعمیر کی تحریک کو اپنی پر وقار شرکت سے مضبوط کریں ۔

مسجد ایرانیان ممبئی کے امام جماعت ، خطیب و محقق مولانا سید نجیب الحسن زیدی نے اپنی پر مغز تقریر میں فرمایا کہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کا تعلق مسلمانوں کے کسی ایک فرقے سے نہیں ہے بلکہ ہر فرقہ آپ کا احترام کرتا ہے اس لیے تمام مسلمانوں کی ذمہ داری ہے کہ بقیع کی تعمیر کے لیے متحد ہو کر تحریک چلائیں ۔

سلطان الھند حضرت خواجہ معین الدین چشتی کی مزار شریف کے ایک اہم خدمت گزار و صوفی اھل سنت عالم و خطیب علامہ سید کامران چشتی نے اپنی بے باک و جاذب تقریر میں فرمایا کہ ہمارا تعلق حضرت خواجہ معین الدین چشتی رحمتہ اللہ علیہ سے ہے ہم خوش عقیدہ اھل سنت والجماعت ہیں اور حنفی المسلک ہیں یہ ہماری ظاھری پہچان ہے اور ہماری باطنی پہچان یہ ہے کہ ھم مولی علی علیہ السّلام کی امامت و ولایت کبری کے ماننے والے ہیں ھم مولی علی مرتضیٰ علیہ السّلام کو رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خلیفہ بلا فصل مانتے ہیں ۔ ھم بھی شیعوں کی طرح جنت البقیع کی تعمیر کی آرزو رکھتے ہیں جب زائرین مدینے جاتے ہیں تو ان کی یہ تڑپ ہوتی ہے کہ فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کا روضہ اقدس دیکھ سکیں ۔

حیدرآباد دکن کے ایک فعال عالم دین مولانا ڈاکٹر سید نثار حسین صاحب نے فرمایا بقیع کی تعمیر کے لیے ہماری پاکیزہ اور پر امن تحریک جاری رہے گی اور اس میں تاخیر ہونے کی وجہ سے ہم مایوس ہونے والے نہیں ہیں کیونکہ ہمارا کام عمل کرنا ہے نتیجہ ہمارے اختیار میں نہیں ہے ۔ ائمہ جمعہ سے ہماری گزارش ہے کہ وہ اس مسئلے کو اپنے خطبوں میں بیان کرتے رہیں ۔

اس موقع پر کولکاتا سے نیابت کرتے ہوئے مولانا شبیر علی وارثی نے عالم اسلام کو متنبہ کرتے ہوئے فرمایا کہ جنت البقیع کا مسئلہ صرف شیعوں سے مربوط نہیں ہے بلکہ یہ مسئلہ تمام مسلمانوں کا ہے ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت اس تحریک کو شیعوں سے اس لیے منسوب کیا گیا ہے تا کہ اس تحریک کو کمزور کیا جا سکے ۔ الحمد للّٰہ مولانا محبوب مہدی عابدی و مولانا اسلم رضوی نے البقیع کانفرنس میں اہل سنّت کے علما کو دعوت دے کر اس تحریک میں عام مسلمانوں کو جوڑنے کی جو کوشش کی ہے وہ بہت عظیم کام ہے ۔

شہر بنگلورو سے مولانا سید منظور عابدی نے فرمایا کہ جنت البقیع کا مسئلہ صرف ایک مکان کا مسئلہ نہیں ہے آیة الله جوادی آملی نے ایک کتاب لکھی ہے جس کا نام ہے” اسوہ بشریت ” اس عظیم الشان کتاب میں آپ نے یہی فرمایا ہے کہ فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا صرف ایک مخصوص طبقے کے لیے اسوہ اور نمونہ نہیں ہیں بلکہ آپ بشریت کے کے لیے اسوہ ہیں اس قانون کے مطابق جنت البقیع کو بھی ایک چھوٹے سے دائرے میں محدود نہیں کرنا چاہئے ۔

بنگلادیش سے محترم عالم دین مولانا آفتاب حسین نقوی نے فرمایا کہ اس زمانے میں ضروری ہے کہ علما و فضلا فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے فضائل پوری دنیا تک پہنچائیں جب عام مسلمانوں کو فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی فضیلت معلوم ہوگی تو دنیا کے گوشے گوشے سے لوگ آپ کے قبر کی تعمیر کے لیے آگے آئیں گے ۔ اس مرتبہ بنگلادیش میں ہمارے علما نے ایام عزائے فاطمیہ کے دوران مجلسوں میں جنت البقیع کی تعمیر کا تذکرہ کیا اور مومنین سے یہ گزارش کی کہ وہ اس تحریک کو کمزور نہ ہونے دیں۔

آخری مقرر کی حیثیت سے مولانا اسلم رضوی نے کہا کہ جب سے البقیع آرگنائزیشن نے مولانا محبوب مہدی عابدی کی سرپرستی میں جنت البقیع کی تعمیر کی تحریک چلائی ہے یہ تحریک گھر گھر پہنچ گئی ہے بقیع آرگنائزیشن سے وابستہ علما جب مجلس ، محفل پڑھنے کے لیے کہیں جاتے ہیں تو مومنین بقیع کے حوالے سے ان کو یاد کرتے ہیں یہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ بقیع اب ایک سنجیدہ تحریک بن گئی ہے ورنہ پہلے ہوتا یہ تھا کہ لوگ آٹھ شوال کو ایک مجلس کر کے مطمئن ہو جاتے تھے کہ سال میں ایک مجلس کر کے ہم نے مدفونین بقیع کا حق ادا کر دیا ہے ۔

مولانا اسلم رضوی کے دعاعیہ کلمات سے پہلے اس کانفرنس کے روح رواں مولانا محبوب مہدی عابدی نجفی نے تمام علما کا شکریہ ادا کیا ۔

حسب معمول مولانا علی عباس وفا ایڈیٹر ان چیف اور ہندوستان کی سر زمین پر بقیع کی تحریک سے وابستہ اہم رکن نے مرصع ، مزین اور دلکش نظامت سے اس پروگرام کی رونق کو اور بڑھا دیا ۔

یہ پروگرام ایس این این چینل ، امام عصر آفیشیل اور یو ٹی وی حیدرآباد سے براہ راست نشر کیا گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں