انہدام جنت البقیع مسلمانوں کی روحوں پر ایسا زخم ہے جو کبھی مندمل نہیں ہوگا: حوزہ علمیہ یزد کے سربراہ

ایران// حجۃ الاسلام والمسلمین محمد شمس نے کہا:ائمہ بقیع کی قبروں کو سال 1344ھ میں مسمار کر دیا گیا، لیکن اس مصیبت سے اہل بیت علیہم السلام کے چاہنے والوں کے دل آج بھی رنجیدہ نہیں۔

حوزہ علمیہ صوبہ یزد کے سربراہ حجۃ الاسلام والمسلمین محمد شمس نے حوزہ نیوز ایجنسی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ ائمہ معصومین علیہم السلام کی قبروں کی مسماری مسلمانوں کی روحوں پر ایسا زخم ہے جو کبھی مندمل نہیں ہوگا، ائمہ بقیع کی قبروں کو سال 1344ھ میں مسمار کر دیا گیا، لیکن اس مصیبت سے اہل بیت علیہم السلام کے چاہنے والوں کے دل آج بھی رنجیدہ نہیں۔

انہوں نے مزید کہا: تکفیری وہابیت نے ایک ظالمانہ اقدام کرتے ہوئے بقیع کے قبرستان پر حملہ کیا اور ائمہ بقیع علیہم السلام کے حرم کو مسمار کر دیا، البتہ وہابیت کا یہ کام کوئی نیا نہیں تھا بلکہ انہوں نے اس سے پہلے بھی حملے کئے تھے، سال 1218 سے 1221 ہجری میں بھی حملہ کیا گیا تھا، مدینہ میں ڈیڑھ سال کے محاصرے اور قحط کے بعد وہابیت مدینہ میں داخل ہوئے اور روضہ رسول کے علاوہ دیگر حرم کو تباہ کر دیا۔

حجۃ الاسلام والمسلمین شمس نے کہا: اگرچہ یہ حملہ عقل و شعود سے عاری اور ایک بنیاد پرست گروہ نے کیا تھا لیکن اس دردناک واقعے کی تہہ میں اگر جائیں تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ یہ ایک ایسا فکر دھارا ہے جو نہ صرف شیعوں اور اہل بیت کے چاہنے والوں کے لیے خطرناک ہے بلکہ مستقبل قریب میں پورے انسانی معاشرےپر اس کا اثر پڑے گا۔

انہوں نے مزید کہا: آج داعش جیسے دہشت گرد گروہوں کا وجود انہی انتہا پسندانہ افکار کا نتیجہ ہے، رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ آج وہ تحریک جو آج داعش کے نام سے جانی جاتی ہے، تکفیریوں کی ہی ایک شاخ ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں