Img 20240204 Wa0092

انقلاب اسلامی کا نور قرآن کا نور ہے، حجۃ الاسلام سید عابد حسین حسینی

سرینگر// اسلامی انقلاب سے پہلے بہت سی قرآنی آیات تعطیل کر دی گئی تھیں۔ امام خمینی (رح) نے قرآن کی آیات سے ہی آغاز کیا اور اسلامی انقلاب سے پہلے قرآن کی بہت سی آیات کی تلاوت کی جاتی تھی، لیکن اس کے اصلی مفہوم کی رعایت نہیں کی جاتی تھی، ان کا اصل مفہوم اسلامی انقلاب کے بعد میں روشن ہوا۔

تبیان قرآنی ریسرچ انسٹچیوٹ کے سربراہ حجۃ الاسلام آغا سید عابد حسین حسینی نے کہا کہ صدر اسلام کے بعد اور انقلاب اسلامی سے پہلے مسلمان ملکوں میں ایک مسلمان من حیث مسلمان انفرادی عبادتیں جیسے نماز اور روزہ، نذورات و صدقات میں مشغول تھے لیکن اسلام کی وہ آفاقی اور بعد جھانی مغفول اور ناشناختہ رہے تھے جس کے متعلق قرآن میں بہت ساری آیایتیں موجود ہیں، وہ عظیم افق، جس کا اللہ تعالیٰ نے رسالت پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پرتو سے پوری انسانیت کے لئے منصه ظهور میں لایا ہے۔ اور حضرت مہدی علیہ السلام کے عالمی انقلاب سے اپنے سرانجام کو پہنچے گا۔ ان ابعاد کو مسلمانوں کی نظروں سے اوجھل کرنے کا شیطان کا خاصا رول رہا ہے وہی انہیں نظر انداز کرنے کے لئے اسلام دشمنوں کی سازشیں بھی تھی۔ امام خمینی (رح) نے دین کی اس اہم جہت اور قرآنی آیات کے اس اہم بعد کو سامنے لایا اور واضح کیا کہ دین کا مطلب ایک دینی جامعه اور سوسائٹی مراد ہے، مذہب صرف ایک انفرادی بعد نہیں ہے، بلکہ دین معاشرہ کے تمام ابعاد کی شرح وظایف اور پروگرام پر مشتمل ایک کامل الہی منشور ہے۔

تبیان قرآنی ریسرچ انسٹچیوٹ کے سربراہ نے اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ اسلامی انقلاب سے پہلے بہت سی قرآنی آیات تعطیل کر دی گئی تھیں۔ امام خمینی (رح) نے قرآن کی آیات سے ہی آغاز کیا اور اسلامی انقلاب سے پہلے قرآن کی بہت سی آیات کی تلاوت کی جاتی تھی، لیکن اس کے اصلی مفہوم کی رعایت نہیں کی جاتی تھی، ان کا اصل مفہوم اسلامی انقلاب کے بعد میں روشن ہوا۔

حجۃ الاسلام سید عابد حسین حسینی نے کہا کہ آج جو ہم مشاہدہ کرتے ہیں کہ سازش کاروں کی سازشی برملا ہوئی ہیں اسلام دشمن عناصر کے چہرے بے نقاب ہوئے ہیں جس کی اصلی وجہ وہی نور ہے جو انقلاب اسلامی کی کامیابی سے پورے دنیا میں طلوع ہوا ہے انقلاب اسلامی کا نور وہی قرآن کا نور ہے اور انقلاب اسلامی کے بعد حقیقی معنی میں قرآنی تعلیمات کو فروغ ملا ہے اور ہر راہ و چار راہ پر قرآن ہی راہنمائی کرتا گیا قرآنی معارف ایسا نور ہے جو جہالت اور آگاہی میں فرق کرواتا ہے جو ظلم کے خلاف اور مظلوم کا حامی بناتا ہے جو مرد اور عورت کو اللہ سبحانہ وتعالی کے دئے گئے حقوق و وظایف کی تشریح کرتا ہے۔ یہ معنویت اور مادیت میں معنویت کو ارجح بیان کرنے والا نور ہے۔

مولانا نے اپنے بات کو آغت بڑھاتے ہوئے کہا کہ آج اگر تمام مسلمان قرآن کو سرلوحہ قرار دیں جس طرح سے امام خمینی (رح) نے دیا تو یقینا جو بدبختی اور ناکامی مسلمانوں کو گریبان گیر ہوئی ہے اس سے دامن چھڑا جاسکتا ہے اگر ہمارے جوان قرآن سے مانوس ہوجائے گے تو وہ کالجوں میں اور یونیورسٹیوں میں ہیومینزم کے سائے پنپنے والے اس انسان محور علم میں مفید اور غیر مفید میں تمیز کرسکتے ہیں اگر مفید علم سے مستفید ہونے کے بجائے غیر مفید علم کے جانسے میں پھنس گئے تو یقینا خسر دنیا و الاخرۃ کا مصداق قرار پائے گے۔ شاید یہ بات قبیح لگے اور بہت ساروں کے ذہن میں یہ سوال ابھرے کہ کیا علم بھی غیر مفید ہوسکتا ہے اس کا جواب بھی انقلاب اسلامی کی تاریخی پس منظر میں دیں گے کہ کبھی کبھار کہاجاتا تھا کیا ایران میں شہنشاہی نظام ختم ہوسکتا ہے یہ غیر ممکن ہے مگر قرآن کی اس آیت پر یقین رکھتے ہوئے نہ فقط شہنشاہی نظام ختم ہوا بلکہ بہترین نظام نظام ولایت فقیہ قائم ہوا۔

وَنُرِيدُ أَن نَّمُنَّ عَلَى الَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا فِي الْأَرْضِ وَنَجْعَلَهُمْ أَئِمَّةً وَنَجْعَلَهُمُ الْوَارِثِينَ

اور ہم یہ چاہتے ہیں کہ جن لوگوں کو زمین میں کمزور بنادیا گیا ہے ان پر احسان کریں اور انہیں لوگوں کا پیشوا بنائیں اور زمین کا وارث قرار دیدیں۔

مولانا سید عابد حسین حسینی نے کہا کہ جو علم خدا سے دور کرے ظالم اور مظلوم میں فرق عیان نہ کرے حق تلفی اور حق کی ادائیگی میں کوئی فرق نہ کرے وہ غیرمفید ہے، کیا خوب فرمایا ہے علامہ اقبال (رح) نے :

اللہ سے کرے دور تو تعلیم بھی فتنہ

سید عابد حسین حسینی نے اپنے بیان کے اختتام میں قرآن سورہ جمعہ کی جانباشارہ کرتے کہا کہ قرآن میں واضح طور پر بیان کیا گیا ہے کہ غیر مفید علم کدھے پر لدے ہوئے بوجھ کی طرح ہے۔

مَثَلُ الَّذِينَ حُمِّلُوا التَّوْرَاةَ ثُمَّ لَمْ يَحْمِلُوهَا كَمَثَلِ الْحِمَارِ يَحْمِلُ أَسْفَارًا ۚ بِئْسَ مَثَلُ الْقَوْمِ الَّذِينَ كَذَّبُوا بِآيَاتِ اللَّهِ ۚ وَاللَّهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ

ان لوگوں کی مثال جن پر توریت کا بار رکھا گیا اور وہ اسے اُٹھا نہ سکے اس گدھے کی مثال ہے جو کتابوں کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہو یہ بدترین مثال ان لوگوں کی ہے جنہوں نے آیات الۤہی کی تکذیب کی ہے اور خدا کسی ظالم قوم کی ہدایت نہیں کرتا ہے۔

(حوزہ نیوز )

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں