Download (6)

امریکی مسلم کمیونٹی کے رہنماؤں کا انتخابات میں بائیڈن کی حمایت نہ کرنے کا عزم

ایک کانفرنس کے دوران امریکی مسلم کمیونٹی کے رہنماؤں نے غزہ جنگ کے حوالے سے جو بائیڈن کے موقف پر تنقید کرتے ہوئے 2024 کے امریکی صدارتی انتخابات میں بائڈن کی حمایت نہ کرنے کا عہد کیا۔

ملکی انتخابات میں اہم اور فیصلہ کن کردار ادا کرنے والی ریاستوں کے مسلم رہنماؤں نے ڈیٹرائٹ میں ایک کانفرنس کے دوران غزہ میں جنگ بندی کے قیام کی مخالفت پر بائیڈن پر شدید تنقید کی ۔

رپورٹ کے مطابق امریکی مسلم کمیونٹی کے رہنماؤں نے اس کانفرنس میں عہد کیا کہ وہ صدارتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار کے طور پر بائیڈن کی حمایت نہیں کریں گے۔

یہ فیصلہ اس وقت لیا گیا ہے جب مشی گن میں ڈیموکریٹس نے وائٹ ہاؤس کو خبردار کیا ہے کہ بائیڈن جس طرح سے صیہونی حکومت اور حماس کے درمیان جنگ کو منظم کر رہے ہیں اور جنگ کی حمایت کر رہے ہیں اس سے 2024 کے صدارتی انتخابات کے نتائج پر اثر پڑ سکتا ہے۔

مشی گن، مینیسوٹا، ایریزونا، وسکونسن، فلوریڈا، جارجیا، نیواڈا، پنسلوانیا کے رہنماؤں نے بڑے بڑے بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر “ڈراپ بائیڈن” لکھا ہوا تھا اور ڈیئربورن، مشی گن میں “سیز فائر ناؤ” کا نعرہ لگا رہے تھے، جس میں سب سے زیادہ عرب امریکی جمع ہوئے تھے۔

بائیڈن کی حمایت نہ کرنے کا ان کا یہ اقدام اس وقت کیا گیا ہے جب ہفتے کے روز فلسطینی وزارت صحت نے حماس اور صیہونی حکومت کے درمیان جنگ کے دوران شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد 15,200 کے لگ بھگ بتائی تھی اور کہا تھا کہ ان میں سے تقریباً دو تہائی خواتین اور بچے ہیں۔

امریکی مسلم کمیونٹی کے رہنماؤں کے مطابق، جنگ بندی کے لیے بائیڈن کی جانب سے موثر کارروائی نہ کرنے سے امریکی مسلم کمیونٹی کے ساتھ ان کے تعلقات کو نقصان پہنچا ہے، ان رہنماوں میں سے ایک نے جنگ کے دوران صیہونی حکومت کی امریکی حمایت کے عمل کو افسوسناک قرار دیا اور کہا: غزہ میں پورے کے پورے خاندان اور بچے ہمارے ڈالروں سے تباہ ہو رہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں