امت کو جوڑنا انبیاء کا مشن جبکہ تفرقہ شیطانی عمل ہے، انٹرنیشنل مسلم یونٹی کونسل

امت کو جوڑنا انبیاء کا مشن جبکہ تفرقہ شیطانی عمل ہے، انٹرنیشنل مسلم یونٹی کونسل

سرینگر// انٹرنیشنل مسلم یونٹی کونسل کا اہم اجلاس کریری بارہمولہ میں کونسل کے چیئرمین مفتی شریف الحق بخاری کے دولت خانہ پر منعقد ہوا۔ اجلاس میں آئی ایم یو سی کے ممبران اور دیگر سماجی و دینی کارکنان نے شرکت کی۔ اس دوران مقررین نے مختلف موضوعات پر گفتگو کرتے ہوئے امت مسلمہ کو یکجہتی اور تفرقہ سے بچنے پر زور دیا۔ مقررین کا کہنا تھا کہ اہلِ ایمان کا تزکیہ نبی کریم (ص) کے کارِ نبوت کا کلیدی جز تھا اور ہم اپنے اسلاف کی اس میراث کی حفاظت میں ناکام رہے جسکی وجہ سے آج یہ امت زبردست تعطل کی شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس اسلاف کے کارنامے صرف اور صرف زبانی دعووں تک محدود ہوکر رہ گئے ہیں، ہم نے کبھی اس سے درسِ عبرت حاصل کرنے کی کوشش نہیں کی، ہماری اس تاریخ سے مغربی دنیا نے اپنی ترقیات کے لئے نہ جانے کس کس طرح سے استفادے کئے، وہ اپنے تاریک دور سے نکل کر تاریخ ساز دور میں داخل ہوگئی اور اس کے افراد مختلف میدانوں میں آج نئی نئی دریافت اور انکشافات میں مصروف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے اسلاف نے جو کارنامے انجام دیئے تھے، ہمیں اس سلسلہ کو آگے بڑھانا چاہیئے تھا لیکن ہم مست مئے پندار ہیں، جبکہ مغربی دنیا نے ان ہی پر اپنی بنیادوں کو استوار کیا اور آگے بڑھتے چلے گئے۔

مقررین نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قوموں کا عروج و زوال قوم کے افراد پر منحصر ہوتا ہے، جب کسی قوم کے افراد بیدار ہوتے ہیں تو وہ قوم ترقی کرتی ہے، اور جب اس کے افراد غفلت کے شکار ہوجاتے ہیں تو اس قوم کو بھی پسماندگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قرآن مجید سے دوری سے امت مسلمہ کا زوال شروع ہوا، امت کے عام افراد نے قرآن مجید کو حصول برکت اور ثواب کی کتاب سمجھ کر اس کے نزول کا اصل مقصد فراموش کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ امت مسلمہ کا یہ دعوی ہے کہ اسلام ایک مکمل نظام ہے اور اس سلسلے میں قرآن مجید ہماری بہترین رہنمائی کرتا ہے، لیکن ہماری اپنی زندگی اور قرآنی زندگی میں نمایاں فرق نظر آتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قرآن کا یہ تصور گفتگو یا تحریروں تک محدود ہوکر رہ گیا ہے، عملی زندگی اس سے خالی نظر آتی ہے، قرآن کو اپنی خواہشات کے تابع بنادیا گیا ہے۔ اجلاس میں کہا گیا کہ مسالک کے نام پر فرقہ بندی ایک مہلک مرض ہے۔

مقررین نے کہا کہ گزشتہ صدیوں یا دور زوال میں ایک چیز یہ بھی سامنے آئی کہ لوگوں نے اسلام سے زیادہ مسالک پر زور دینا شروع کردیا، ان کے نزدیک اسلام سے زیادہ مسالک کی اہمیت ہوگئی۔ انہوں نے کہا کہ سب نے اسلام کی نشر و اشاعت کے بجائے اپنے اپنے مسالک کی نشر و اشاعت شروع کردی، اسلام کا تعارف اپنے مذہب کے مطابق پیش کیا گیا، قرآن و حدیث سے زیادہ مسلکی علماء کے اقوال کو اہمیت دی جانے لگی۔ انہوں نے کہا کہ آج المیہ یہ ہے کہ مسائل کا حل تلاش کرنے کے لئے قرآن و سنت کے بجائے علماء کے اقوال کا سہارا لیا جانے لگا۔ آخر میں انٹرنیشنل مسلم یونٹی کونسل نے متفقہ طور پر یہ رائے دی کہ جو افراد، تنظیمیں اور ادارے دین کی خدمت کررہے ہیں اور امت کے عروج کے لئے کوشاں ہیں ان کو اسبابِ زوال کی تشخیص پر غور کرنا چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ اس تشخیص پر اگر انہیں اطمینان ہو تو انہیں اپنے منصوبے اور ایجنڈے میں ان اساسی امور کو شامل کرنا چاہیئے جن کی نشاندہی یعنی یقین اور ایمان کی تازگی کی سعی، دین کے علم کی وسیع اشاعت، افرادِ امت کی دینی و اخلاقی تربیت اور علمی و تحقیقی روایت کی تجدید کے ذریعے اجتہاد و انطباق پر توجہ دینی چاہیئے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں