2122278

امام زمانہ نے ہمیں دور غیبت میں لاوارث نہیں چھوڑا ہے: مولانا سید منظر صادق زیدی

لکھنؤ//ماہ شعبان المعظم کے ان ایام میں ہر سو محافل کا انتظام و اہتمام ہے۔اسی سلسلہ کی ایک اہم کڑی نور عصر کریش کورس ہے جو ماضی میں دتیا مدھیہ پردیش نیز حسن پورہ سیوان بہار میں اپنی کرنیں بکھیر چکا ہے۔اس برس ولایت ٹی وی،انجمن ظہور امامت مفتی گنج کے باہمی تعاون سے یہ کریش کورس لکھنؤ کے مشہور عزاخانوں میں ایک یعنی امام بارگاہ میرن صاحب میں منعقد ہو رہا جس میں مختلف عناوین کے تحت علماء کرام کے مفید بیانات سے شرکاء آف لائن اور دنیا بھر سے آن لائن ملحق ہونے والے سینکڑوں مومنین فیضیاب ہو رہے ہیں۔

نور عصر کریش کورس میں دوسرے دن درس کا باقاعدہ آغاز قاری قرآن پاک جناب فرقان صاحب نے سورہ مبارکہ دہر کی بعض آیات کی تلاوت کے ذریعہ کیا۔جس کے بعد مولانا سید منظر صادق زیدی صاحب قبلہ نے اپنے موضوع غیبت کبری میں علماء کے کردار پر سیر حاصل گفتگو کی۔

مولانا موصوف نے ابتدائے سخن میں ہم شکل پیغمبر جناب علی اکبر کی ولادت کی مناسبت سے مبارک باد پیش کی اور بیان کیا کہ جوانی جیسے مرحلہ حیات سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہئے کیونکہ عمر گزرنے کے ساتھ ساتھ اگر چہ علم و تجربہ میں اضافہ ہو چکا ہوتا ہے لیکن پھر عمل کی طاقت جوانی جیسی باقی نہیں بچتی ہے۔

مولانا سید منظر صادق زیدی نے اضافہ کیا کہ پروردگار عالم نے قرآن مجید میں متعدد مقامات پر صاحبان علم کو نادانوں پر ترجیح دی ہے اور علماء کی فضیلت میں قرآنی آیات موجود ہیں۔مثال کے طور پر قرآن مجید میں جس جگہ مالک نے توحید کی گواہی کے لئے اپنا اور ملائکہ کا تذکرہ کیا ہے اسی جگہ صاحبان علم کا بھی تذکرہ فرمایا ہے۔

آیات قرآن مجید کے ساتھ استاد درس نے احادیث کے آئینہ میں بھی علماء کی اہمیت بیان کی جیسے یہ حدیث کہ پروردگار جب کسی کے ساتھ خیر کا ارادہ کرتا ہے تو اسے دین کا فقیہ بنا دیتا یے۔یا پھر یہ حدیث نبوی کہ میری امت کے علماء،بنی اسرائیل کے انبیاء جیسے ہیں۔یا پھر یہ حدیث کہ روز قیامت علماء کے قلم کی روشنائی شہداء کے خون کے ہم پلہ ہوگی۔

مولانا منظر صادق نے بیان کیا کہ حدیث معصوم سے معلوم ہوتا ہے کہ عالم عابد پر فضیلت رکھتا ہے کیونکہ عابد اپنی ذات کے بارے میں سوچتا ہے جبکہ عالم شیطان کی جانب سے قائم ہونے والی بدعتوں کا خاتمہ کر کے بشریت کو نجات فراہم کرنے کا سامان کرتا ہے۔فقط دور غیبت میں علماء کا کردار نہیں بلکہ دور انبیاء و ائمہ میں بھی علماء کا وجود ضروری۔جناب موسی چالیس دنوں کے لئے قوم سے دور ہوئے تو سامری پیدا ہوا اس نے بچھڑا بنا لیا قوم کی گمراہی کے لئے یہ کافی تھا تو سوچئے امام زمانہ کی غیبت کے ساڑھے گیارہ سو سال سے زیادہ ہو چکے کتنے سامری آئے ہوں گے جن سے تحفظ علماء نے عطا کیا ہے۔

نور عصر کریش کورس کے دوسرے لکچر میں مولانا نے اضافہ کیا کہ جوانان قوم کے ذہنوں میں جو شکوک ایجاد کئے جا رہے ان میں ایک یہ بھی کہ ہمیں علم معصوم سے لینا ہے نہ کہ غیر معصوم سے۔یہ بات قابل غور ہے کہ جس طرح پیغمبر اکرم اپنے بعد ہمیں لاوارث نہیں چھوڑ کر گئے اسی طرح امام زمانہ نے بھی دور غیبت میں ہمیں لاوارث نہیں بنایا ہے بلکہ فرمایا کہ جب نئے نئے مسائل کا سامنا ہو تو علماء کا رخ کرنا کیونکہ وہ میری جانب سے تم پر اور میں اللہ کی جانب سے ان پر حجت ہوں۔

استاد درس نے حدیث معصوم کے ضمن میں فرمایاکہ یتیم یا ظاہری ہوتا ہے یا معنوی۔ظاہری یتیم یعنی بے سرپرست اور یتیم معنوی یعنی امام سے دور۔اس دور میں ہم یتیمان آل محمد کی علمی و عملی زندگی میں یہی علماء ہیں جو اپنا کردار بخوبی نبھاتے ہیں۔

یہ بتاتے چلیں کہ نور عصر کریش کورس کی مقبولیت دیگر شہروں اور صوبوں کی طرح لکھنؤ میں قابل صد تحسین ہے۔ہلپ ڈسک پر موجود افراد مسلسل نئے رجسٹریشن درج کر رہے۔

حسب دستور اس درس میں بھی برادران و خواہران نے سوال جواب سیشن میں اپنے سوالات پیش کئے۔

یہ کریش کورس آن لائن بھی نشر ہو رہا جس سے ملک و بیرون ملک کے با ذوق و علم دوست افراد مکمل فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں