3617062

امام خمینی حقیقی معنوں میں انقلابی شخصیت اور ذہانت و بصیرت کے مالک تھے

اقوام متحدہ کے سابق اہلکار رچرڈاینڈرسن فالک نے کہا کہ امام خمینی حقیقی انقلابی تھے جو مارکس اور لینن جیسوں کے نظریات سے متاثر نہیں ہوئے۔

بین الاقوامی ڈیسک؛ فلسطین میں انسانی حقوق کے نمائندے رچرڈ اینڈرسن فالک نے مہر نیوز ایجنسی کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ایران میں اسلامی انقلاب برپا کرنے میں امام خمینی کے کردار پر روشنی ڈالی اور ان کو ایک حقیقی انقلابی شخصیت قرار دیا۔ ان کی گفتگو کا متن قارئین کی خدمت میں پیش کیا جاتا ہے؛

انقلاب اسلامی کی کامیابی سے چند روز پہلے امام خمینی کے ساتھ میٹنگ تھی، اس میں کن معاملات پر گفتگو ہوئی تھی؟

کئی سال جلاوطنی کے بعد امام خمینی کی فرانس سے ایران واپسی سے چند روز پہلے یہ میٹنگ ہوئی تھی۔ یہ میرے لئے یادگاری لمحہ تھا جس سے ایران کے اسلامی انقلاب کو سمجھنے میں مدد ملی۔ ہم امام خمینی کے نظریات اور صاف گوئی سے بہت متاثر ہوئے کہ وہ کیوں ایران میں شفاف نظام کے کیوں حامی تھے۔ میں ذاتی طور پر امام خمینی کے بے نظیر وژن سے بہت متاثر ہوا وہ اعلی سطح سے لے کر نچلی سطح تک ہر مرحلے میں ملکی آئین کے تحت شفاف سازی چاہتے تھے۔

امام خمینی امریکہ کی طرف سے مداخلت کے خلاف تھے کیونکہ امریکہ دوبارہ شاہ کو تخت بادشاہی پر دیکھنا چاہتا تھا۔ امام خمینی کو انتخابی نتائج میں ہیراپھیری کا خطرہ محسوس ہورہا تھا ۔ انہوں نے امریکی ہونے کی حیثیت سے ہم سے رائے مانگی تو ہم صرف نیک خواہشات کا اظہار کرسکتے تھےکہ ایسا کوئی واقعہ رونما نہیں ہوگا۔امام خمینی نے امریکہ کے ساتھ تعلقات کی بحالی کا بھی امکان اور امید ظاہر کی لیکن اس شرط پر کہ امریکہ دوبارہ ایران کے امور میں مداخلت نہیں کرے گا اور قومی معاملات اور سلامتی کے حوالے سے ایرانی عوام کی رائے کا احترام کرے گا۔

امام خمینی شاہ کے خلاف ہونےو الے انقلاب کو مکمل اسلامی قرار دیتے تھے۔ وہ شاہ کے جرائم کا احتساب چاہتے تھے۔ وہ ایران واپسی کے بعد دوبارہ مذہبی ذمہ داریوں کے مطابق زندگی گزارنے کی امید کررہے تھے۔ امام خمینی اسلامی ممالک میں بعض خاندانوں کی حکومت کے مخالف تھے اور کہتے تھے کہ بعض شاہی حکومتیں اسلامی اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتی ہیں۔

اس ملاقات کے دوران امام خمینی کی کس خصوصیت نے آپ کو متاثر کیا کیا؟ وہ انقلاب کی کامیابی کے لئے پرامید تھے؟

ہمیں اندازہ ہوا کہ ایران سے شاہ کے فرار ہونے کے بعد امام خمینی کو انقلاب کی کامیابی یقین ہوچکا تھا البتہ بیرونی مداخلت اور بغاوت کا خطرہ موجود تھا اس لئے ان کی توجہ مستقبل میں ان خطرات کے مقابلے میں انقلاب کے دفاع پر مرکوز تھی۔ وہ شاہی نظام کے خاتمے کے بعد اسلامی جمہوری نظام کی تشکیل کے حوالے سے سوچ رہے تھے۔

ہم ان کی اخلاقی اور سیاسی شفافیت سے بہت متاثر ہوئے۔ وہ ایران کے پرانے نظام کی جگہ نیا نظام لانے کے حوالے سے کسی سمجھوتے پر تیار نہیں تھے۔

آپ نے ایران کے اسلامی انقلاب کے حق میں نیویارک ٹائمز میں آرٹیکل لکھا جس کی وجہ سے آپ پر حملہ بھی کیا گیا تھا، آپ نے کیا لکھا تھا اور کیوں حملہ کیا گیا؟

مجھے نیویارک ٹائمز کے اوپینین پیج ایڈیٹر نے آرٹیکل لکھنے کی ترغیب دی ۔ امریکی عوام امام خمینی کے بارے میں بہت کم جانتے تھے کیونکہ ان کے بارے میں خبریں زیادہ نہیں دی جارہی تھی۔ اس وقت یہ تصور کیا جارہا تھا کہ مبارزہ ختم ہوچکا ہے اور امام خمینی کی قیادت میں انقلابی فوج کامیاب ہوگئی ہے۔ مجھ اس لئے حملہ کیا گیا کہ میر اآرٹیکل شاہ کی حکومت کے خلاف تھا اور اس میں ایران میں قائم ہونے والے نئی انقلابی قیادت کے تحت ایران کے مستقبل کے بارے میں مثبت پیشنگوئی کی گئی تھی۔ شاہ کی حکومت امریکہ کے لئے خطے میں ایک اتحادی اور تیل کا منبع ہونے کے ساتھ سوویت یونین کے خلاف بنیادی کردار کی حامل تھی۔

چنانچہ آپ نے امام خمینی کو ایک حقیقی انقلابی شخصیت قرار دیا لہذا ایران کے اسلامی انقلاب اور 20 ویں صدی کے دوسرے انقلابات میں کیا فرق دیکھتے ہیں۔ ایران کے اسلامی انقلاب میں امام خمینی کے کردار کےبارے میں کیا کہتے ہیں؟

امام خمینی نے مجھے بہت متاثر کیا وہ بائیں بازو کی تحریکوں کے بانیوں کی طرح لینن اور مارکس جیسوں کے نظریات سے متاثر نہیں تھے۔ وہ اسلامی اقدار اور تعلیمات پر مبنی حکومت تشکیل دینا چاہتے تھے جومغرب میں صنعتی ترقی کے بعد آنے والی کی طرح روشن خیالی میں افراط کا شکار نہ ہو۔ انہوں نے عدم تشدد پر مبنی پالیسی کے تحت انقلاب کو آگے بڑھایا۔

آپ کے خیال میں امام خمینی کی شخصیت میں کونسی خصوصیات تھیں جن کی وجہ معاشرے کے مختلف طبقات کو اپنی طرف متوجہ کیا اور انقلاب کی فتح یقینی ہوگئی؟

امام خمینی کے خیالات اور افکار اسلامی تعلیمات اور اقدار کا عملی نمونہ تھے اور یہی پہلوی خاندان کے خلاف انقلاب کے بعد نئی حکومت کو آگے لے جانے میں موثر ثابت ہوئیں۔ لوگوں کا خیال تھا کہ امام خمینی سمجھوتہ کریں گےدوسری صورت میں فوجی بغاوت یا بیرونی مداخلت کی وجہ سے انقلاب کو شکست کا سامنا کرنا پڑے گا۔ امام خمینی نے شاہ کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کے بجائے طویل جلاوطنی کو قبول کیا تھا اور اس دوران ان کا عزم کبھی متزلزل نہیں ہوا۔ امام خمینی کی ان صفات اور خصوصیات کی وجہ سے لوگوں نے نئے نظام کے لئے اپنی جان دینے پر آمادگی ظاہر کی جس کی وجہ سے بالاخر مشرق وسطی کی سب سے بے رحم اور ظالم حکومت پر انقلاب کو فتح نصیب ہوئی۔

امام خمینی کے اسلامی انقلاب میں دوسرے ممالک کے لئے کیا سبق اور نمونہ ہے؟

امام خمینی کے اسلامی کے اثرات کو 2011 کے عرب سپرنگ میں پیش آنے والے واقعات کی شکل میں مشاہدہ کرسکتے ہیں۔ مصری عوام نے حسنی مبارک کا تختہ الٹنے کےبعد نئے نظام کے لئے کوشش کی لیکن امام خمینی کے ذاتی کردار اور پالیسیوں کے باعث دشمن کی طرف سے خطرات کے باوجود ایران میں اسلامی انقلاب پائیدار ثابت ہوا۔ 1980 میں مغربی ممالک کی حمایت میں ایران پر لشکرکشی کی گئی لیکن ایران کامیاب ہوا اور انقلاب کو ختم کرنے میں وہ لوگ ناکام ہوگئے اس کے بعد اسرائیل اور سعودی عرب جیسے ممالک کے ذریعے مسلسل ہراساں کیا گیا ۔ امریکہ نے دباو بڑھانے کے لئے سیاسی طریقے استعمال کئے لیکن کامیاب نہ ہوسکا۔

امام خمینی نے پہلوی خاندان کی سیکولرازم پر مبنی حکومت کی جگہ اسلامی اصولوں کے تحت مضبوط بنیادوں پر حکومت تشکیل دی جس نے پرانے نظام کی جگہ لے لی اس حکومت میں سماجی اخلاقیات اور معیشت کو اسلامی اقدار اور تعلیمات سے ہماہنگ کیا گیا۔ یہ یورپی استعمار کے خلاف جاری جدوجہد کا ایک حصہ ہے جس نے وقت کے ساتھ کردار کو بدل دیا ۔ ایران کی اسلامی حکومت ابتدائی ایام میں پیش آنے والی رکاوٹوں کو عبور کرکے استحکام لانے میں کامیاب ثابت ہوئی جو امریکہ نے اسرائیل اور سعودی عرب کے ذریعے اس کے لئے ایجاد کی تھیں۔ یہ جدوجہد اب بھی جاری ہے۔

(فلسطین میں اقوام متحدہ کے سابق نمائندے کی مہر نیوز کے ساتھ گفتگو؛)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں