Images (3)

افکار خمینی (رح) سے شیطان بزرگ لرزاں

افکار خمینی (رح) سے شیطان بزرگ لرزاں

تحریر: ڈاکٹر شجاعت حسین

اسلامی انقلاب ایران عالم شباب و شوکت میں ہے۔ آج 45 واں یوم انقلاب کا جشن تزک و احتشام سے منایا جا رہا ہے۔ 1979 کے ایرانی انقلاب کے بانی رہبر کبیر، آیت اللہ روح اللہ الموسوی خمینی ہیں۔

اسلامی انقلاب ایران عالم شباب و شوکت میں ہے۔ آج 45 واں یوم انقلاب کا جشن تزک و احتشام سے منایا جا رہا ہے۔ 1979 کے ایرانی انقلاب کے بانی رہبر کبیر، آیت اللہ روح اللہ الموسوی خمینی ہیں۔

تاریخ میں رونما ہونے والے ویسے تو متعدد انقلاب ہیں لیکن ساتھ اہم انقلاب ہیں۔ (1) 1649 کے انگریزی انقلاب جس کی رہنمائی اولیور کروم ویل (چارلس دوم) کے نام ہے، 1776 امریکی انقلاب جس کی قیادت جنرل جارج واشنگٹن کے ذریعہ ہوئی، 1789 فرانسیسی انقلاب کی باگ ڈور میکمیلین روبسپیئر کے ہاتھ میں رہی، 1917 کا روسی انقلاب کا لیڈر ولادیمیر لینن کے ذمہ رہا، 1947 کا ہندوستانی انقلاب کا پرچم موہن داس کرم چند گاندھی کے ہاتھ میں تھا، 1949 کے چینی انقلاب ماؤ زی تنگ نے رہنمائی کی۔ یہ سبھی انقلاب اب تاریخ کی کتابوں کے اوراق کا حصہ ہیں لیکن جس انقلاب کے بانی رہبر کبیر امام خمینی رحہ ہیں اس کا اثر ہر خطے میں نظر آرہا ہے اور حکمران و عوام الناس محسوس کر رہے ہیں۔ خاص طور سے امریکہ، مغربی ممالک، اسرائیل اور 57 مسلم و عرب ممالک کے حکمران حیران و پریشان نظر آرہے ہیں اور اپنی حکومت کو بچانے کے لیے یہود و نصارٰی کے ہم نوالہ و ہم پیالہ بنے ہوئے ہیں اور احکام الٰہی، قرآن، احادیث رسول ﷺ، ایمان و اسلام سے عملی طور پر لا تعلقی دکھائی دیتا ہے۔

انقلاب کسے کہتے ہیں اور یہ کیسے آتا ہے،؟؟ ذرا غور کریں۔ سیاسی طاقت اور سیاسی تنظیم میں ایک بنیادی اور اچانک تبدیلی ہے جو اس وقت ہوتی ہے جب آبادی حکومت کے خلاف بغاوت کرتی ہے۔ عام طور پر جبر کی وجہ (سیاسی، سماجی، اقتصادی، ثقافتی) یا سیاسی نااہلی بھی وجہ ہوتی ہے۔ کوئی نظام جو انسانیت کے لیے نقصان کا باعث بن جائے اور اس نظام میں تعداد کے لیے نقصان ہوں اور وہ تعداد ملکر اسی نظام کو ختم کر کے اس کے بدلے ایک کامیاب نظام نافذ کرے جس میں تعداد کے مسائل کا حل موجود ہو، انقلاب کہتے ہیں۔

جب معاشرے زوال کا شکار ہونا شروع ہوتے ہیں اور انسانی اقدار ختم ہونے لگتے ہیں تو انقلاب کے لیے حالات سازگار ہوجاتے ہیں۔ انقلاب حادثاتی طور پر نہیں آتے بلکہ یہ معاشرے میں بد امنی و خرابی کی وجہ سے انقلاب برپا کئے جاتے ہیں۔ انقلاب برپا کرنے کے لیے کسی کرشماتی شخصیت کی رہنمائی کی ضرورت ہوتی ہے جو عوام کی بخوبی قیادت کر سکے۔

ایران میں امام خمینی رح کے ذریعے اسلامی انقلاب برپا کرنے کی اصل وجہ یہ تھی کہ محمد رضا شاہ پہلوی کے سخت رویہ نے اس کی سلطنت کو جدیدیت کی طرف لایا، خواتین کی آزادی میں اضافہ، مذہبی تعلیم میں کمی، یہ سب عوام و علماء کرام کے لیے پریشان کن اقدامات تھے۔
آیت اللہ روح اللہ امام خمینی رح نے اس انقلاب کی قیادت کی جس نے 1979 میں محمد رضا شاہ پہلوی کا تختہ الٹ دیا اور اگلے 10 سالوں کے لیے ایران کی حتمی سیاسی اور مذہبی اقتدار کے مالک و مختار رہے۔ آپ کی واضح مخالفت، مغربی اثرات کی مذمت اور اسلامی پاکیزگی کے ان غیر سمجھوتہ وکالت تھی جس نے ایران میں ابتدائی پیروی حاصل کی۔ آپ کی وفات کے بعد آپ کے افکار و اقوال بالا دستی و گرفت رکھتے ہیں۔ علاوہ ازیں، جلاوطنی کے دوران آپ نے ایک بڑی پیروکار تیار کی اور سیک مضبوط اور با اثر نیٹ ورک قائم کیا جس نے اسے شاہ کی معزولی میں اہم کردار ادا کیں۔

قلب میں سوز نہیں، روح میں احساس نہیں، فکر میں تحریک نہیں، قدر توحید نہیں، عمل میں ترجمانی آیات نہیں۔

مندرجہ بالا نکات کی جانب توجہ مبذول کرانے کا اغراض و مقاصد یہ ہے کہ انقلاب اسلامی جمہوریہ ایران کا 45 واں جشن منایا جا رہا، امام خمینی رحہ کی زندگی، ان کے کمالات، انقلاب اسلامی ایران کی کامیابی، فضیلت، عظمت اور افادیت پر دانشورانہ غور و فکر، تدبر و تفکر کریں۔ ہمیں عاشقان خمینی رحہ پکار رہی ہے۔ کیا ہم ان کی صفات کو پہچانا اور عمل میں بروئے کار لا سکتے ہیں؟ کیا وہی سوال ذہن میں گردش کرتا ہے کہ کہاں وہ اور کہاں میں؟
امام خمینی رحہ کی وہ شخصیت ہے کہ جن کا عمل، علم، دوستی، دشمنی، لینا، ترک کرنا، بات کرنا، خاموش رہنا، قیام، رکوع، سجود، صبر، شکر، جلاوطنی، صلح، جنگ اور قول و فعل خالص خدا کے لیے رہا ہے۔ وہ علم الٰہی سے مزین و مالا مال تھے۔

حضرت امام خمینی رح نے گُفتار سے نہیں بلکہ اپنے کردار سے بیداری پیدا کی۔ ان کا جہاد صرف سیاسی، سماجی، فکری اور اقتصادی نا تھا بلکہ ان تمام جہادوں کے ساتھ اندرونی جہاد بنفس بھی تھا۔ جس زمانے میں کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ امریکہ کے خلاف زبان کھولی جاسکتی ہے، امام خمینی رحہ نے بڑی طاقتوں کے بارے میں پائی جانے والی سوچ تبدیل کر کےانہیں ان کی اوقات یاد دلا دی اور ثابت کر دیا کہ دنیا کی طاقتوں پر ضرب لگائی جا سکتی ہے یہ حقیقت سویت یونین کی تباہی اور امریکہ کے موجودہ حالات ڈوبتے ٹائٹنیک کے مانند ہے جو اپنے آپ میں خود گواہ ہے۔

یہ واقعہ بھی ہندوستانی علماء کرام، ذاکرین، مقررین، مبلغین، واعظین، شعراء کرام و حریت لیڈران کے لیے قابل توجہ ہے کہ پاکستانی فوجی جنرل اور چھٹے صدر، محمد ضیاء الحق امام خمینی رحہ سے ملنے کے لیے تہران گئے۔ ضیاء الحق نے ملاقات کے دوران پاکستان میں انقلاب برپا کرنے کے لیے طریقۂ کار دریافت کیا۔ امام خمینی رحہ نے مشورہ دیا کہ پاکستان میں انقلاب لانے سے پہلے آپ کو اپنے آپ میں انقلاب لانا ہوگا۔ یہ اشارہ ان علماء کرام، ذاکرین، مقررین، واعظین، شعراء کرام کے لیے ہے جو صرف منمبر، محراب سے اپنی گفتگو، تقریر اور واعظ سے انقلابی بنانا چاہتے ہیں۔ کیا امام خمینی رح نے گفتار سے شاہی خاندان اور ان معاون امریکہ کو ایران سے باہر کیا؟ اول اور اہم افکار، اس پر عمل اور خالص کردار رہا ہے۔

امام خمینی رح کے کردار، امانت داری، دیانتداری، ایمان اور توحید کے حوالے سے ایک معقول و مناسب حوالہ موجودہ حالات میں دینا نہایت ضروری ہے کہ فصل زمستان بود۔ کسی تاجر نے امام خمینی رح کو زیادہ تعداد میں کمبل دیا یہ کہہ کر کہ اس کمبل کو علماء کرام کے درمیان تقسیم کر دیں گے۔ کثیر تعداد میں کمبل دیکھ کر امام خمینی رحہ کے خادم نے ایک کمبل دینے کا تقاضا کیا، لیکن نہیں دیا، دوسری دفعہ بھی خادم نے اپنے آپ کو سردی سے محفوظ رکھنے کے لیے کمبل مانگا، مگر اس دفعہ بھی امام نے مسترد کردیا۔ خادم نے مسلسل تیسرے دن بھی کمبل کے لیے مطالبہ کیا تو تاجر کے کمبلوں میں سے ایک عدد بھی نہیں دیا بلکہ اپنا ذاتی کمبل سپرد کر دیا۔ اب یہ بھی تذکرہ کرنا لازمی ہے کہ خادم نے کہا کہ میں آپ کی خدمت کرتا ہوں۔ امام خمینی رحہ نے جواب دیا کہ تم خدمت کرتے ہو لیکن عالم تو نہیں ہو۔تاجر نے یہ کہہ کر کمبل دیا تھا کہ اسے علماء کے درمیان تقسیم کریں گے۔ شب کے درمیان جب خادم کی آنکھ کھلی تو امام خمینی رحہ کے کمرے کی لائٹ جلتی دیکھی، گھبرا کے کھڑکی سے اندر کی طرف جھانکا تو دیکھتا ہے کہ امام ٹھنڈک سے بچنے کے لیے اپنا عبا جسم پر ڈالے ہوئے ہیں۔ اور دستور کے خلافت کمرے کی لائٹ ٹھنڈک سے بچنے کے لیے جلا رکھی ہے۔

رہبر معظم انقلاب سید علی خامنہ ای دام ظلہ ہمارے بزرگ امام خمینی رحہ کے بارے میں فرماتے ہیں کہ آپ محمد رضا شاہ پہلوی کے جنگ لڑی جو بظاہر شیعہ تھا۔ اسی طرح آپ صدام کے خلاف جنگ لڑے جو بظاہر سنی تھا۔ بلا شبہ، پہلے والا سچا شیعہ نہیں تھا اور بعد والا سچا سنی نہیں تھا۔ یہ دونوں اسلام سے الگ تھے لیکن پہلے والا بظاہر شیعہ تھا اور بعد والا بظاہر سنی تھا۔ امام خمینی رحہ نے ان کا اسی طرح مقابلہ کیا۔ اسی لیے ہمارے لیے مسئلہ سنی، شیعہ فرقہ وارانہ تعصب اور اسی طرح کی دوسری چیزیں نہیں ہیں۔ مسئلہ اسلام کے اصول کا ہے۔ ظالم کا دشمن ہو یا مظلوم کا مددگار ہو (نہج، مکتب نمبر 47)، یہ اسلام کا حکم ہے۔ یہ ہماری لائن ہے۔

امام خمینی رح کے مزاحمتی قوت و گروہوں کے نظریے سے مغربی قوت کو کافی دھچکا لگا ہے۔ سپر پاور کہلانے والے ملک امریکہ اور اسرائیل سے فلسطین، یمن، شام، لبنان اور عراق جیسے ملک بھی ڈٹ کر مقابلہ کر رہے ہیں۔ وہ زمانہ ختم ہو گیا جب چاہا اپنی مرضی سے جمہوری حکومت بدل دی، جب چاہا کسی ملک پر قبضہ کیا اور وہاں کی قدرتی وسائل پر قابض ہو گئے اور ڈکٹیٹر حکومت کی ٹھیکے پر حفاظت کرتے رہے۔ اب امام خمینی رحہ کے افکار “مزاحمتی قوت” سے عالمی انقلاب برپا ہوا ہے اور پتھر و غلیل سے لڑنے والے میزائل اور ڈرون سے میدان جنگ میں مقابلہ کر رہے ہیں۔

آیت اللہ العظمٰی روح اللہ سید موسوی خمینی رحہ دراصل کربلا کی راہ کا ایک بزرگ سپاہی تھا، جس نے باطل قوت کے سامنے انکار کرنا، سلطانٍ حُریت حسینؑ ابن علیؑ سے درس حاصل کی، جس نے اولاد زہرہؑ ہونے کا حق و ثبوت پیش کیا، بے وطن رہا مگر ظالم کے سامنے جھُکا نہیں، دنیا کو ثابت کیا کہ جو انسان کربلا سے منسلک ہو جاتا ہے اسے پھر حق پرستی کے سوا کچھ نظر نہیں آتا۔ آج امام خمینی رحہ کا وہ آفاقی و ابدی شخصیت ہے کی کوئی شخص کے سامنے اپنے ملک کے نظام و مسئلے کا گلہ کریں گے تو وہ شخص ایک ہی لخت میں جواب دےگا “اس ملک کو خمینی جیسے انقلابی شخصیت کی ضرورت ہے۔”

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں