2083907

اسلام و مسیحیت کو نزول عیسیٰ ؑ و ظہور امام مہدی (ع) کیلئے مشترکہ کوششوں کا آغاز کرنا چاہیئے، علامہ سید صادق تقوی

۱۷ ؍جنوری ۲۰۲۴ء کو سینٹ پیٹرک کیتھڈرل چرچ میں معروف عالم دین، محقق، مترجم، استاد حوزہ، المصطفیٰ انٹرنیشنل یونیورسٹی کے سابق استاد اور سابقہ جوائنٹ سیکریٹری ہیئت آئمہ مساجد و علماء امامیہ پاکستان علامہ سید صادق رضا تقوی نے پاپائے روم، واٹیکان کے نمائندہ و سفیر برائے پاکستان آربشپ جرمینو پینی میٹو(Archbishop Germano Penemote) سے ملاقات کی ہے۔

اسلام و مسیحیت کو نزول عیسیٰ ؑ و ظہور امام مہدی (ع) کیلئے مشترکہ کوششوں کا آغاز کرنا چاہیئے، علامہ سید صادق تقوی

اس موقع پر علامہ سید صادق تقوی نے اپنے مختصر خطاب میں انہیں خوش آمدید کہتے ہوئے اسلام اور مسیحیت کے درمیان مشترک نکات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے نزول حضرت عیسیٰ مسیح علیہ السلام اور ظہور امام مہدی عجل اللہ فرجہ کی جانب اشارہ کیا اور دونوں ادیان کو امن عالم کے پائیدار استحکام کی جانب اقدامات کرنے کو بیان کیا۔
اسلام و مسیحیت کو نزول عیسیٰ ؑ و ظہور امام مہدی (ع) کیلئے مشترکہ کوششوں کا آغاز کرنا چاہیئے، علامہ سید صادق تقوی
علامہ سید صادق تقوی نے پاپائے روم کی آیت اللہ العظمیٰ سیستانی دامت برکاتہ سے ملاقات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ’’امام علی علیہ السلام نےدنیا کوظالم و مظلوم میں تبدیل کرتے ہوئے ظلام کی مخالفت کرتے ہوئے مظلوم کا ساتھ دینے کا حکم دیاہے۔ آج ظالم طاقتیں غزہ میں انسانی حیات کا گلا گھونٹ رہی ہیں اور مظلوم فلسطینی عوام کی کوئی داد رسی کرنے والا نہیں۔‘‘

انہوں نے مزید کہا کہ ہ ہمارا فرض بنتا ہے کہ ہم انسانیت، امن وامان عالم ، اخلاقی اقدار کی حاکمیت اور زمین پر اللہ جل جلالہ کے احکامات کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش کریں، یہ وہ امور ہیں کہ جن کی جانب اللہ نے اپنے انبیاء اور رسولوں کے ذریعے ہماری توجہ کو مبذول کرایا ہے۔‘‘

اس موقع پر کراچی کے آرش بشپ جناب بینے ماریو تراواس، کارڈینل جوزف کٹس، مفتی ابوبکر محی الدین، ہندو کیمونیٹی سے گواسامی وجے مہاراج، سکھ کیمونیٹی سے سردار مگن سنگھ، بوہری کیمونیٹی سے منصور جیک، آغا خان کیمونیٹی سے محترمہ زہرا شلوانی، پارسی کیمونیٹی سے محترمہ ٹشنا پٹیل اور دیگران شامل تھے۔
اس موقع پر پاپائے روم کے نمائندہ برائے پاکستان نے زیتون کا درخت بھی لگایا۔
علامہ سید صادق تقوی نے آخر میں انہیں مختلف مذاہب کی عبادت گاہوں، مساجد و امام بارہ گاہ اور مدارس کا دورہ کرنے کی دعوت دی اور ان سے درخواست کی کہ وہ حاضرین کے ہمراہ وٹیکان کا ایک دورہ مرتب کریں، جسے انہوں نے بخوشی قبول کیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں