Download (16)

اب اسکول چار مارچ سے کھلے گئے ،بچے بھی سکول پھر سے کھلنے کا بے صبری سے انتظارکررہے ہیں

محکمہ موسمیات کی جانب سے بھاری برفبار ی اور بارشوں کی پیشگوئی
محکمہ تعلیم کی جانب سے سرمائی تعطیلات میں دو دن کی توسیع کا اعلان

سرینگر // محکمہ موسمیات کی جانب سے بھاری برفبار ی اور بارشوں کی پیشگوئی کے چلتے محکمہ تعلیم نے کشمیر میں دو دنوں کیلئے سرمائی تعطیلات میں توسیع کر دی ہے اور اب اسکول چار مارچ سے کھلے گئے اور چار مارچ کو اسکولوں میں پہلا دن ہوگا ۔ اسی دوان معلوم ہوا ہے کہ بچے بھی سکول پھر سے کھلنے کا بے صبری سے انتظارکررہے ہیں جبکہ والدین بھی ان دنوں بچوں کی تیاریوں میں لگے ہوئے ہیں ۔ سی این آئی کے مطابق وادی کشمیر میں قریب تین ماہ کی سرمائی تعطیل کے بعد مکمل طور پر چار مارچ سے کھلے گئے کیونکہ محکمہ موسمیات کی جانب سے کی گئی پیشگوئی کے چلتے اسکولوں کی سرمائی تعطیل میں دو دنوں کا اضافہ کیا گیا ہے ۔ اس سلسلے میں اس سلسلے میں حکم نامہ ڈائریکٹوریٹ آف اسکول ایجوکیشن کشمیر کی جانب سے جاری کیا گیا جس میں گیا گیا کہ شدید برفباری کی ایڈوائزری کے پیش نظر اسکولوں میں دو دنوں کیلئے سرمائی تعطیلات میں توسیع کی جاتی ہے اور اب اسکولوں میں درس و تدریس کاعمل 4مارچ سے بحال ہو گا ۔ چار مارچ سے سکول کھولنے کی تیاریاں محکمہ کی جانب سے بھی بڑے پیمانے پر شروع کی گئیں ہیں جس کے ساتھ ہی نرسری سے آٹھویں جماعت تک کے سکولوں کے ساتھ ساتھ ہائر سیکنڈریوں،کالجوں اور دیگر تعلیمی اداروں میں معمول کادرس و تدریس کا کام شروع کیا جارہا ہے ۔اس ضمن میں محکمہ تعلیم کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے بتایا کہ وادی کشمیر کے اسکولوں میں معمول کا درس و تدرس چار مارچ سے باضابطہ طور پر شروع ہوگا ۔انہوںنے کہا کہ چونکہ محکمہ موسمیات نے بھاری بارشوں اور برفباری کی پیشگوئی کی ہے جس کے چلتے دو دنوں کی توسیع کر دی گئی ہے ۔ اس ضمن میں سٹی رپورٹر کے ساتھ بات کرتے ہوئے کئی والدین نے بتایا کہ ہمارے بچے سرمائی تعطیل کے بعد قریب تین ماہ بعد اسکولوں میں درس و تدریس کا عمل بحال ہو گا ۔ ادھر بچوں نے بھی سکول کھلنے پر بے حد خوشی اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ وہ سکولوں میں اپنے دوستوں اور ٹیچروں سے ملنے کا انتظار کررہے ہیں۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ وادی کشمیر کے تمام اسکولوں میں گزشتہ سال ماہ دسمبر میں ہی مر حلہ وار طریقوں میں سرمائی تعطیل کا اعلان کیا گیا تھا ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں