Download (6)

آج تاریگامی تو کل محبوبہ سے بات ہوگی،ضرورت پڑنے پر ڈاکٹر فاروق سے بھی ملاقی ہونگا?: مظفر شاہ

پی اے جی ڈی جماعتوں کو’ تو تو ،میںمیں‘ بند کرنے کا مشورہ

سرینگر//عوامی نیشنل کانفرنس نے عوامی اتحاد برائے گپکار الائنس(پی اے جی ڈی) کو بڑے مقصد کیلئے مظبوط بنانے کی وکالت کرتے ہوئے پارٹیوں کے درمیان خلفشار کو ختم کرنے کی وکالت کی۔عوامی نیشنل کانفرنس کے سنیئر نائب صدر مظفر شاہ نے ہفتہ کو سرینگر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پی اے جی ڈی میں شامل پارٹیوں کو چھوٹی چھوٹی باتوں کو نظر انداز کرنے کا مشورہ دیا۔مظفر شاہ نے کہا’’میں ان جماعتوں سے گزارش کرتا ہوں کہ وہ آپسی تو تو میں میں بند کریں‘‘۔ شا نے کہا کہ اس وقت جموں کشمیر کے تمام طبقے،کشمیری،پاڑی،گجر،بکروال اور دیگر لوگ متحد لیڈرشپ کے متمنی ہے،اور انکی خواہشات و احساسات کا احترام کرنا تمام ہم فکر سیاسی جماعتوں پر لازمی ہے‘‘۔انہوں نے کا کہ ڈاکٹر فاروق عبداللہ کو پہلے ہی تمام سیاسی جماعتوں نے اعتماد دیا ہے کہ وہ رہنمائی کریں،باقی ان کے پیچھء پیچھے چلیں گے۔ پی اے جی ڈی میں اندرونی چپقلش کو چھوتا معاملہ قرار دیتے ہوئے مظفر شاہ نے کہا کہ وہ ہفتہ کو محمد یوسف تاریگامی سے ملے گے اور اتوار کو پی ڈی پی سربراہ محبوبہ مفتی سے ملاقی ہونگے اور اگر ضرورت پڑی تو جموں جاکر ڈاکٹر فاروق عبداللہ سے بھی گفت و شنید کریں گے۔ انہوں نے کانگر کو بھی مشو رہ دیا کہ وہ اعتدال اور حقیقت پسندی کا مظاہرہ کریں۔شاہ نے کہا’’ ضرورت پڑی تو کانگریس لیڈرشپ سے بھی ملاقی ہونگا،انہیں یہ بات یاد رکھنی چاہے کہ ایک لاکھ لوگوں کو پہلے ی قبرستان کے سپرد کیا جاچکا ہے‘‘۔انہوں نے کہا کہ اور کتنے لوگوں کو مارنا باقی ہے،کانگریس نے بھی اپنے دور اقتدار میں جو کچھ کیا وہ کیا،اب اس سے آگے بڑنے کی ضروورت ہے،جبکہ انہیں یہ با بھی ذہین نشین کر لینی چاہے کہ تمام تر صورتحال باوجود دیگر سیاسی جماعتیں انکے ساتھ ہے۔مظفر شاہ نے پی اے جی ڈی میں بکھرائو کے سوال کو سرے سے نکارتے ہوئے کہا کہ بڑے فیصلے کو مد نظر رکھتے ہوئے اگر کسی سیاسی جماعت سے ا?ج کوئی چوک ہوئی تو آنے والی نسلوں کیلئے م ایک تبا شدہ کشمیر کو پیش کریں گے۔مظفر شا نے امید ظاہر کی کہ پی اے جی ڈی پارلیمانی انتخابات کے علاو اسمبلی الیکشن کی انتخابی مم بھی یکجا طور پر چلائے گے۔ انہوں نے کہا کہ پی اے جی ڈی صرف نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی کا ہی نام نہیں ہے بلکہ ایک ڈسپلن ہے اور جو بھی جماعت ڈسپلن کی خلاف ورزی کریں گے وہ اس ممبر یا جماعت کو پی اے جی ڈی سے بے دخل کرنے کی سفارش کریں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں